بین الاقوامی خبریں

غزہ کا زخمی بچہ محمد، خاندان کی شہادت کے بعد زندگی کی آخری امید لیے دنیا سے مخاطب

اسرائیلی بمباری میں پورا خاندان کھو چکا ہے، علاج کے لیے باہر جانے کی اجازت کا منتظر

غزہ  :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)غزہ کی تباہ حال گلیوں میں ایک خاموش چیخ آج بھی سنائی دیتی ہے، جو دس سالہ فلسطینی بچے محمد ابو محسن کی ہے۔ وہ بچہ جو چند لمحوں میں اپنا پورا خاندان کھو بیٹھا، آج خود زندگی اور موت کے بیچ معلق ہے۔ صبرہ محلے میں ہونے والی شدید بمباری نے اس کے گھر کو ملبے میں بدل دیا، جہاں سے محمد تو زندہ نکلا مگر اس کے والدین اور تمام بہن بھائی شہادت پا گئے۔

اسرائیلی حملے نے محمد کو صرف یتیم ہی نہیں کیا بلکہ جسمانی طور پر معذور بھی بنا دیا۔ ایک آنکھ مکمل طور پر ضائع ہو چکی ہے جبکہ دوسری آنکھ سے نظر دھندلی اور غیر معمولی دکھائی دیتی ہے۔ دونوں ٹانگوں میں شدید فریکچر کے باعث دھاتی پلیٹیں لگائی گئیں، مگر غزہ میں ناکافی طبی سہولیات کے باعث اس کی حالت میں بہتری ممکن نہیں ہو سکی۔

محمد کی خواہش نہ کسی کھلونے کی ہے اور نہ ہی کسی عیش و آرام کی۔ اس کی واحد تمنا یہ ہے کہ اسے غزہ سے باہر علاج کے لیے جانے دیا جائے تاکہ وہ دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکے اور روشنی کو دونوں آنکھوں سے دیکھ سکے۔ وہ کہتا ہے کہ محصور غزہ میں دوا نایاب اور شفا ایک خواب بن چکی ہے۔

محمد کے چچا رامی ابو محسن کے مطابق بمباری کے وقت بچہ پانچویں منزل سے نیچے جا گرا، جس کے بعد اس کی زندگی مسلسل تکلیف اور اذیت کا نام بن گئی۔ وہ نہ صرف شدید جسمانی درد میں مبتلا ہے بلکہ نفسیاتی طور پر بھی گہرے صدمے کا شکار ہے۔ ڈراؤنے خواب، خوف اور اپنے شہید خاندان کی یادیں اس کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔

غزہ کے حکومتی میڈیا آفس کے مطابق رفح گذرگاہ کی بندش نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ہزاروں زخمی اور مریض ایسے ہیں جنہیں فوری بیرونِ غزہ علاج کی ضرورت ہے، مگر انہیں سفر کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ طبی نظام تباہ ہو چکا ہے اور اسپتال بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔

الشفاء اسپتال انتظامیہ کے مطابق ادویات کی فراہمی ضرورت کا محض ایک محدود حصہ ہے، جبکہ ہزاروں مریض اجازت ناموں کے انتظار میں دم توڑ چکے ہیں۔ ان میں بچے، بزرگ اور کینسر کے مریض بھی شامل ہیں۔

سات اکتوبر 2023ء سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ ایک کھلے قبرستان کا منظر پیش کر رہا ہے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، ہزاروں لاپتا ہیں اور قحط نے بچوں کی جانیں لینا شروع کر دی ہیں۔ عالمی اپیلوں کے باوجود محاصرہ برقرار ہے اور سیز فائر کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔

محمد ابو محسن آج صرف ایک بچہ نہیں بلکہ غزہ کے ہر زخمی بچے کی علامت ہے، جو دنیا کے ضمیر سے سوال کر رہا ہے: کیا علاج بھی جرم بن چکا ہے؟

متعلقہ خبریں

Back to top button