قومی خبریں

ترکمان گیٹ واقعہ: پتھراؤ کیس میں دہلی پولیس کی کارروائی، دو مزید گرفتار

اس کیس میں زیر حراست افراد کی مجموعی تعداد 18 تک پہنچ گئی

نئی دہلی 12/جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) دہلی کے حساس علاقے ترکمان گیٹ میں پیش آئے پتھراؤ کے معاملے میں دہلی پولیس نے اتوار کے روز دو مزید ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار افراد کی شناخت شہزاد اور فہیم عرف سانو کے طور پر کی گئی ہے، جنہیں مختلف مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا۔ ان گرفتاریوں کے بعد اس کیس میں زیر حراست افراد کی مجموعی تعداد 18 تک پہنچ گئی ہے۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب دہلی میونسپل کارپوریشن کی ٹیم پولیس فورس کے ساتھ ہائی کورٹ کے احکامات پر فیض الٰہی مسجد کے قریب غیر قانونی تجاوزات ہٹانے کے لیے جے سی بی مشین کے ساتھ موقع پر پہنچی تھی۔ انہدامی کارروائی کے دوران تقریباً 25 سے 30 افراد نے پولیس اور میونسپل اہلکاروں پر پتھراؤ کر دیا، جس سے علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔

پولیس حکام کے مطابق تشدد کے اس واقعے میں پانچ پولیس اہلکاروں کو معمولی چوٹیں آئیں، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر کے طبی امداد فراہم کی گئی۔ سینٹرل ڈسٹرکٹ کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس ندھن والسن نے بتایا کہ تمام زخمی اہلکار اب خطرے سے باہر ہیں۔

واقعے کے بعد امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ترکمان گیٹ اور اس کے اطراف بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا کی دفعہ 163 نافذ کر دی گئی، جس کے تحت عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی۔ پولیس کی جانب سے شہریوں سے اپیل کی گئی کہ وہ حالات معمول پر آنے تک گھروں میں ہی نماز ادا کریں اور افواہوں پر دھیان نہ دیں۔

دہلی پولیس نے اس سے قبل تصدیق کی تھی کہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کی مدد سے تشدد میں مبینہ طور پر ملوث کم از کم 30 افراد کی شناخت کی جا چکی ہے۔ باقی ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں مسلسل چھاپے مارے جا رہے ہیں اور تفتیشی عمل تیز کر دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق انہدامی کارروائی سے پہلے امن قائم رکھنے کے لیے امن کمیٹی کے اراکین اور مقامی فریقین کے ساتھ کئی اجلاس منعقد کیے گئے تھے۔ سینٹرل رینج کے جوائنٹ کمشنر آف پولیس مدھور ورما نے کہا کہ تمام ممکنہ احتیاطی اور اعتماد سازی کے اقدامات کیے گئے تھے، اس کے باوجود چند شرپسند عناصر نے حالات خراب کرنے کی کوشش کی۔

حکام کے مطابق پولیس نے محدود طاقت کا استعمال کرتے ہوئے صورتحال پر فوری قابو پا لیا، جس کے بعد علاقے میں امن قائم رکھا گیا۔ پولیس نے دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی اور امن و امان میں خلل ڈالنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button