عالمی ایل پی جی سپلائی کی بحالی میں 3 سے 4 سال لگ سکتے ہیں
ایل پی جی کی عالمی ترسیلی زنجیر بری طرح متاثر ہو گئی ہے
نئی دہلی 15 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے باعث ایل پی جی (Liquefied Petroleum Gas) کی عالمی ترسیلی زنجیر بری طرح متاثر ہو گئی ہے اور اس کی مکمل بحالی میں تین سے چار سال لگ سکتے ہیں۔ ایک سینئر سرکاری عہدیدار کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ گیس کی پیداوار عارضی طور پر رکی ہے یا مستقل نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث بحالی کا عمل طویل ہو سکتا ہے۔
بھارت کو گیس کی درآمد کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے کیونکہ ملک اپنی تقریباً ساٹھ فیصد ضرورت بیرون ملک سے پوری کرتا ہے۔ اس سے پہلے زیادہ تر سپلائی آبنائے ہرمز کے راستے آتی تھی، تاہم حالیہ کشیدگی کے بعد اس راستے سے آنے والی سپلائی میں نمایاں کمی آئی ہے۔
28 فروری کے بعد امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے نتیجے میں صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی، جبکہ ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے میں فوجی اڈوں اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اس دوران بغیر پائلٹ طیاروں اور میزائل حملوں سے گیس صاف کرنے والے کارخانے اور برآمدی مراکز کو نقصان پہنچا۔
مغربی ایشیا میں گیس کی پیداوار بڑے ذخائر سے وابستہ ہے، جن میں جنوبی پارس گیس میدان (ایران) اور قطر کا شمالی گیس میدان شامل ہیں، جو دنیا کے بڑے گیس ذخائر میں شمار ہوتے ہیں۔
اسی طرح قطر کا راس لفان صنعتی شہر اور متحدہ عرب امارات کا حبشان گیس مرکز، گیس کی تیاری میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں، جہاں مختلف اجزاء کو علیحدہ کر کے انہیں قابل استعمال بنایا جاتا ہے۔
گیس کی عالمی ترسیل کے لیے اہم بندرگاہوں میں راس لفان بندرگاہ (قطر)، ینبع بندرگاہ (سعودی عرب) اور فجیرہ آئل مرکز (متحدہ عرب امارات) شامل ہیں، جہاں سے گیس دنیا بھر میں بھیجی جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر، کویت، بحرین اور عمان مجموعی طور پر بھارت کو 92٪ فیصد گیس فراہم کرتے ہیں۔ ان میں متحدہ عرب امارات سب سے بڑا فراہم کنندہ ہے، تاہم حالیہ حملوں کے باعث اس کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جبکہ قطر ایک اہم مگر غیر یقینی فراہم کنندہ کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
ادھر بھارت میں گیس سلنڈر کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ گھریلو سلنڈر کی قیمت میں تقریباً 60 روپے جبکہ تجارتی سلنڈر کی قیمت میں 115 روپے تک اضافہ ہو چکا ہے، جس سے عام صارفین پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر صورتحال جلد معمول پر نہ آئی تو عالمی سطح پر توانائی کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔



