متحدہ عرب امارات کے قرض کے دباؤ میں سعودی عرب کا پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر امدادی اعلان
"سعودی امداد پاکستان کے لیے مشکل وقت میں بڑا سہارا
کراچی 15 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سعودی عرب نے پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر کی اضافی مالی مدد کا اعلان کیا ہے، جس سے متحدہ عرب امارات کے قرض کی ادائیگی کے باعث پیدا ہونے والے دباؤ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کو اسی ماہ تقریباً 3.5 ارب ڈالر متحدہ عرب امارات کو ادا کرنے ہیں، جس کی وجہ سے ملک کے زر مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے 3 ارب ڈالر کی نئی رقم بطور جمع شدہ رقم فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ پہلے سے موجود 5 ارب ڈالر کی رقم کی مدت میں بھی توسیع کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تعاون پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات کے لیے نہایت اہم ہے اور اس سے زر مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔
پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر 27 مارچ تک تقریباً 16.4 ارب ڈالر تھے، جبکہ ملک عالمی مالیاتی فنڈ کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت جون تک انہیں 18 ارب ڈالر سے زیادہ تک لے جانے کا ہدف رکھتا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ اپنے وعدوں کے مطابق زر مبادلہ کے ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔
یاد رہے کہ سعودی عرب ماضی میں بھی پاکستان کی معاشی مشکلات کے دوران مدد فراہم کرتا رہا ہے۔ سن 2018 میں بھی سعودی عرب نے 6 ارب ڈالر کا پیکیج دیا تھا، جس میں 3 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک میں جمع کرائے گئے اور 3 ارب ڈالر کا تیل ادھار پر فراہم کیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کے لیے نہایت اہم ہے اور اس سے نہ صرف معیشت کو سہارا ملے گا بلکہ خطے میں دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔



