ایرانی بندرگاہوں کا امریکی محاصرہ خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ، کشیدگی بڑھے گی: چین
یہ اقدام تنازع کو بڑھائے گا اور امن کو نقصان پہنچائے گا
بیجنگ 14 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ایران کی بندرگاہوں پر امریکی بحری محاصرے کے بعد عالمی سطح پر ردعمل سامنے آنا شروع ہو گیا ہے، اور چین نے اس معاملے پر کھل کر اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔ بیجنگ نے واضح کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں بلکہ پہلے سے نازک صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہیں۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گؤ جیاکون نے ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکی اقدام غیر ذمہ دارانہ ہے اور اس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز جیسے حساس سمندری راستے میں فوجی دباؤ بڑھانا عالمی تجارت اور جہاز رانی کی سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جنگ بندی کے باوجود امریکہ کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ ترجمان کے مطابق یہ محاصرہ نہ صرف جاری سفارتی کوششوں کو متاثر کرے گا بلکہ کسی بھی ممکنہ امن معاہدے کے امکانات کو بھی کمزور کر سکتا ہے۔
چین کا مؤقف ہے کہ مسئلے کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ مذاکرات میں پوشیدہ ہے۔ اسی سلسلے میں چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ ان کا ملک مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے اور بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانے کی حمایت جاری رکھے گا۔
دوسری طرف حالیہ دنوں میں اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی بات چیت کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکی، جس کے بعد حالات مزید غیر یقینی کا شکار ہو گئے ہیں۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے رابطے میں زور دیا کہ جنگ بندی کو برقرار رکھنا اس وقت سب سے اہم ضرورت ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اختلافات خاص طور پر جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر برقرار ہیں۔ امریکہ کی جانب سے طویل مدت تک یورینیم افزودگی روکنے کا مطالبہ کیا گیا، جبکہ ایران اس حوالے سے کم مدت کی شرط پر آمادہ دکھائی دیتا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ واشنگٹن ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ بعض امور پر پیش رفت کے باوجود امریکی مطالبات حد سے زیادہ سخت ہیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کو خبردار کیا ہے کہ اگر بیجنگ نے تہران کی عسکری مدد کی تو سخت تجارتی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ اس پر چین نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی یکطرفہ اقدام کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر صورتحال اسی طرح کشیدہ رہی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل کے راستوں میں شمار ہوتی ہے۔



