ایران جنگ کے اثرات: : UNDP رپورٹ کے مطابق بھارت میں 25 لاکھ افراد غربت کا شکار ہو سکتے ہیں
مغربی ایشیا کی کشیدگی بھارت میں غربت اور مہنگائی کو بڑھا سکتی ہے۔
نیو یارک 14 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی، خصوصاً ایران سے جڑے تنازعات، عالمی معیشت پر گہرے اثرات ڈال رہے ہیں اور بھارت بھی اس کے اثر سے محفوظ نہیں رہا۔ اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی تازہ رپورٹ کے مطابق اس بحران کے نتیجے میں بھارت میں تقریباً 25 لاکھ افراد مزید غربت کا شکار ہو سکتے ہیں جبکہ انسانی ترقی کی رفتار سست پڑنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ بعنوان “مغربی ایشیا میں فوجی اضافہ ایشیا اور بحرالکاہل میں انسانی ترقی پر اثرات” میں کہا گیا ہے کہ توانائی، مال برداری اور خام مال کی قیمتوں میں اضافے نے گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں قوتِ خرید میں کمی، غذائی عدم تحفظ میں اضافہ اور حکومتی مالی دباؤ میں شدت دیکھی جا رہی ہے۔
ابتدائی تخمینوں کے مطابق عالمی سطح پر 88 لاکھ افراد غربت کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں جبکہ ایشیا پیسیفک خطہ اس بحران سے تقریباً 299 ارب ڈالر تک کا معاشی نقصان برداشت کر سکتا ہے۔
بھارت کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غربت کی شرح 23.9 فیصد سے بڑھ کر 24.2 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں مزید 24 لاکھ 64 ہزار سے زائد افراد غربت میں دھکیل دیے جائیں گے۔ اس طرح ملک میں مجموعی طور پر غربت میں زندگی گزارنے والوں کی تعداد 354 ملین تک پہنچنے کا امکان ہے۔
انسانی ترقی کے اشاریے (HDI) پر بھی اس بحران کے منفی اثرات متوقع ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کی ترقی کی رفتار میں 0.03 سے 0.12 سال تک کمی ہو سکتی ہے، جبکہ نیپال اور ویتنام میں بھی معمولی کمی دیکھی جا سکتی ہے۔
بھارت کی معیشت کا ایک بڑا انحصار مغربی ایشیا پر ہے۔ ملک اپنی 90 فیصد سے زائد تیل کی ضروریات درآمد کرتا ہے، جن میں سے بڑی مقدار اسی خطے سے آتی ہے۔ اسی طرح کھاد کی درآمدات کا بھی بڑا حصہ مغربی ایشیا سے وابستہ ہے، جس سے زرعی شعبہ متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایل این جی کی قیمتوں میں اضافے نے بھارت سمیت کئی ممالک کو دوبارہ کوئلے پر مبنی بجلی کی طرف مائل کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ سپلائی چین میں رکاوٹیں، فریٹ چارجز میں اضافہ، انشورنس لاگت اور تاخیر جیسے مسائل بھی شدت اختیار کر رہے ہیں۔
تجارتی لحاظ سے مغربی ایشیا بھارت کے لیے نہایت اہم ہے، جہاں اس کی 14 فیصد برآمدات اور 20.9 فیصد درآمدات وابستہ ہیں۔ اس بحران کے باعث چھوٹی صنعتوں، خصوصاً مہمان نوازی، تعمیراتی سامان، اسٹیل اور جواہرات کے شعبوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
خوراک کے شعبے پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ترسیلات زر میں ممکنہ کمی سے بھارت سمیت جنوبی ایشیا کے کئی ممالک میں غذائی تحفظ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ صورتحال خاص طور پر اس وقت حساس ہے جب خریف فصل کا موسم قریب ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی رکاوٹ کی صورت میں طبی آلات کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ ادویات کی قیمتیں پہلے ہی 10 سے 15 فیصد بڑھ چکی ہیں، جس سے علاج مزید مہنگا اور مشکل ہو سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے عہدیداروں کے مطابق یہ بحران جہاں خطرات پیدا کر رہا ہے، وہیں ممالک کے لیے یہ موقع بھی ہے کہ وہ مضبوط سماجی تحفظ، مقامی سپلائی چینز اور متنوع توانائی نظام کو فروغ دے کر اپنی معیشت کو زیادہ مستحکم بنائیں۔



