آسام کے وزیر اعلیٰ کی اہلیہ کے پاس متعدد پاسپورٹ؟ ہندوستانی شہریت اور متعدد پاسپورٹ کا تنازع، قانون کیا کہتا ہے؟
کیا ہندوستان میں دوہری شہریت اور ایک سے زیادہ پاسپورٹ جائز ہیں؟
ئی دہلی 06 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ہندوستانی شہریت اور پاسپورٹ سے متعلق قوانین ایک بار پھر بحث کا مرکز بن گئے ہیں۔ یہ معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب کانگریس کے ترجمان پون کھیرا نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما کی اہلیہ رینیکی بھوئیان پر سنگین الزامات عائد کیے۔ کھیرا کے مطابق رینیکی کے پاس متحدہ عرب امارات، اینٹیگوا و باربوڈا اور مصر کے پاسپورٹ موجود ہیں، جن کی میعاد 2027 سے 2031 کے درمیان ختم ہوتی ہے۔
ان الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے ہمنتا بسوا سرما نے انہیں سیاسی پروپیگنڈہ قرار دیا اور کہا کہ ان کی اہلیہ اس معاملے میں سخت قانونی کارروائی کریں گی۔ اس تنازع کے بعد عوام کے ذہنوں میں یہ سوال شدت سے ابھر رہا ہے کہ آیا کوئی ہندوستانی شہری ایک سے زیادہ ممالک کے پاسپورٹ رکھ سکتا ہے یا نہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق پاسپورٹ ایکٹ 1967 حکام کو یہ اختیار دیتا ہے کہ اگر پاسپورٹ غلط طریقے سے حاصل کیا گیا ہو تو اسے ضبط یا منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ اس ایکٹ کی دفعہ 12 کے تحت فراڈ، معلومات چھپانے یا پاسپورٹ کے غلط استعمال پر جرمانہ اور قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
اسی طرح ہندوستانی شہریت ایکٹ 1955 کی دفعہ 9 واضح طور پر کہتی ہے کہ اگر کوئی ہندوستانی شہری رضاکارانہ طور پر کسی دوسرے ملک کی شہریت حاصل کر لیتا ہے تو اس کی ہندوستانی شہریت خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔ آئین کے مطابق ہندوستان میں دوہری شہریت کی اجازت نہیں ہے، یعنی کوئی شخص بیک وقت ہندوستانی اور غیر ملکی شہریت نہیں رکھ سکتا۔
اوورسیز سٹیزن شپ آف انڈیا (او سی آئی) اسکیم کے تحت اگرچہ غیر ملکی شہریت رکھنے والے ہندوستانی نژاد افراد کو تاحیات ویزا اور ملک میں رہنے و کام کرنے کی سہولت دی جاتی ہے، لیکن انہیں مکمل شہری حقوق حاصل نہیں ہوتے۔ وہ ووٹ نہیں دے سکتے اور نہ ہی کسی سرکاری عہدے پر فائز ہو سکتے ہیں۔
قوانین کے مطابق اگر کسی شخص کے پاس غیر ملکی پاسپورٹ پایا جاتا ہے تو اسے غیر ملکی شہری تصور کیا جاتا ہے، جس کے بعد وہ ہندوستانی پاسپورٹ رکھنے کا اہل نہیں رہتا۔ سپریم کورٹ بھی اس اصول کو برقرار رکھ چکی ہے کہ پاسپورٹ شہریت سے براہ راست منسلک ہوتا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں ایک سے زیادہ ہندوستانی پاسپورٹ رکھنے کے 1300 سے زائد معاملات سامنے آئے ہیں۔ ایسے افراد کو سکیورٹی کے لیے خطرہ مانا جاتا ہے اور ان کے خلاف پاسپورٹ ایکٹ 1967 کے تحت کارروائی کی جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ تنازع نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ ہندوستان میں متعدد پاسپورٹ یا دوہری شہریت نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ اس کے سنگین قانونی نتائج بھی ہو سکتے ہیں۔



