تاج محل ٹکٹ فراڈ: جعلی ویب سائٹ نے غیر ملکی سیاحوں کو لوٹ لیا، 1300 کے بجائے 3200 روپے وصول
غیر ملکی سیاح جعلی ویب سائٹ کے جال میں پھنس گئے
آگرہ 09 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) دنیا کے سات عجوبوں میں شامل تاج محل کے نام پر ایک بڑا سائبر فراڈ سامنے آیا ہے، جس میں غیر ملکی سیاحوں کو نشانہ بنایا گیا۔ آگرہ میں ایک جعلی ویب سائٹ کے ذریعے آن لائن ٹکٹ فروخت کیے جا رہے تھے، جس کا انکشاف اس وقت ہوا جب سیاح اپنے ٹکٹوں کی تصدیق کے لیے تاج محل پہنچے اور وہ جعلی نکلے۔
اطلاعات کے مطابق، کچھ غیر ملکی سیاحوں نے انٹرنیٹ پر تلاش کے دوران ایک ویب سائٹ سے ٹکٹ خریدے، جہاں انہیں اصل قیمت سے کہیں زیادہ رقم ادا کرنی پڑی۔ ایک سیاح نے تقریباً 3200 روپے ادا کیے، جب کہ سرکاری طور پر تاج محل کے ٹکٹ کی قیمت تقریباً 1300 روپے ہے۔ اس طرح نہ صرف سیاحوں سے زائد رقم وصول کی گئی بلکہ انہیں جعلی ٹکٹ بھی فراہم کیے گئے۔
اس فراڈ کا پردہ اس وقت فاش ہوا جب مغربی دروازے پر تعینات ملازم ببلو کمار پاسوان نے تین سیاحوں کے ٹکٹوں میں گڑبڑ محسوس کی۔ جانچ کے دوران معلوم ہوا کہ یہ ٹکٹ ایک مشتبہ ویب سائٹ کے ذریعے خریدے گئے تھے، جہاں تینوں سیاحوں نے مجموعی طور پر 105 ڈالر ادا کیے تھے۔
معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے فوری کارروائی شروع کر دی ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ تاج محل سمیت دیگر محفوظ یادگاروں کے لیے آن لائن ٹکٹ صرف مجاز پلیٹ فارمز کے ذریعے ہی بک کیے جائیں۔
تاج محل کے سینئر کنزرویشن اسسٹنٹ قلندر بند نے اس معاملے پر پولیس کو خط لکھ کر سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ سپرنٹنڈنٹ آف آرکیالوجی ڈاکٹر سمیتا ایس کمار نے بتایا کہ جعلی ویب سائٹ کے خلاف کارروائی کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، اور یہ ویب سائٹ پہلے بھی اسی نوعیت کے فراڈ میں ملوث رہ چکی ہے۔
یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے قبل بھی 2023 میں اسی طرح کا سائبر فراڈ سامنے آ چکا ہے، جس کے بعد متعدد مشکوک ویب سائٹس کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔ اس کے باوجود دھوکہ دہی کے نئے طریقے سامنے آ رہے ہیں۔
واقعے کے بعد اے ایس آئی نے سیاحوں کے لیے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی غیر معروف یا غیر سرکاری ویب سائٹ سے ٹکٹ بک نہ کریں۔ محفوظ رہنے کے لیے صرف مستند اور سرکاری ذرائع کا استعمال ضروری ہے تاکہ ایسے فراڈ سے بچا جا سکے۔



