دلچسپ خبریں

بیجنگ:89 سالہ خاتون کا حیران کن کارنامہ، 27 منزلہ عمارت سے ریلنگ کے سہارے نیچے اتر گئیں

فائر فائٹرز موقع پر پہنچے تو خاتون 27ویں منزل سے 21ویں منزل تک پہنچ چکی تھیں

بیجنگ 11 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ایک 89 سالہ خاتون کی غیر معمولی جرات اور خطرناک قدم نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کر لی، جب وہ اپنے اپارٹمنٹ میں بند ہونے کے بعد عمارت کی بیرونی دیوار سے نیچے اترنے لگیں۔

رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ یکم اپریل کو پیش آیا۔ خاتون 27ویں منزل پر واقع اپنے بیڈروم میں اکیلی تھیں جب دروازہ اچانک بند ہو گیا اور وہ اندر پھنس گئیں۔ ان کا موبائل فون ڈرائنگ روم میں رہ گیا تھا، جس کے باعث وہ کسی سے رابطہ نہ کر سکیں۔

گھبراہٹ میں انہوں نے ایک انتہائی خطرناک فیصلہ کیا اور عمارت کے باہر نصب ایئر کنڈیشنر کے یونٹس اور ریلنگ کو سہارا بنا کر نیچے اترنا شروع کر دیا۔ اسی دوران نیچے موجود ایک کلینر اور سکیورٹی گارڈ نے آوازیں سن کر اوپر دیکھا تو وہ حیران رہ گئے اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔

انہوں نے خاتون کو رکنے کے لیے آوازیں دیں، مگر وہ مسلسل نیچے اترتی رہیں۔ اس دوران کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی جس میں سفید بالوں والی خاتون کو عمارت کی دیوار کے ساتھ چمٹ کر خطرناک انداز میں نیچے اترتے دیکھا جا سکتا ہے۔

جب فائر فائٹرز موقع پر پہنچے تو خاتون 27ویں منزل سے 21ویں منزل تک پہنچ چکی تھیں، جو زمین سے تقریباً 50 میٹر بلند تھی۔ حکام نے بیرونی جانب سے ریسکیو کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے اندر سے کارروائی کا فیصلہ کیا۔

ریسکیو ٹیم نے سب سے پہلے خاتون کو حفاظتی رسی کے ذریعے محفوظ کیا، پھر ریلنگ کا ایک حصہ کاٹ کر انہیں ایئر کنڈیشنر کے پلیٹ فارم پر بیٹھنے کا موقع دیا تاکہ وہ کچھ دیر آرام کر سکیں۔ اس دوران انہیں پانی اور جیکٹ بھی فراہم کی گئی۔

تقریباً 20 منٹ آرام کے بعد، فائر فائٹرز نے اسٹریچر کی مدد سے پلیٹ فارم اور قریبی اپارٹمنٹ کی کھڑکی کے درمیان ایک عارضی راستہ بنایا اور خاتون کو نہایت احتیاط سے اندر منتقل کر لیا۔

خوش قسمتی سے خاتون کو کوئی سنگین چوٹ نہیں آئی، تاہم وہ شدید تھکن اور خوف کا شکار تھیں۔ بعد ازاں انہوں نے بتایا کہ ان کا ارادہ ابتدا ہی سے پہلی منزل تک نیچے اترنے کا تھا۔

یہ حیران کن واقعہ سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گیا اور لاکھوں افراد نے اسے دیکھا۔ صارفین نے خاتون کی جرات کو سراہتے ہوئے انہیں "سپر دادی” کا لقب دیا اور کہا کہ ایسا کارنامہ نوجوانوں کے لیے بھی آسان نہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button