پنشنرز کے مہنگائی الاؤنس میں امتیاز ناقابلِ قبول، یکساں اضافہ لازمی-سپریم کورٹ
مہنگائی کا اثر ملازمین اور پنشنرز دونوں پر یکساں ہوتا ہے، اس لیے امتیاز ناقابل قبول ہے
نئی دہلی 11 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سپریم کورٹ آف انڈیا نے مہنگائی الاؤنس (DA) اور مہنگائی ریلیف (DR) سے متعلق ایک نہایت اہم اور دور رس اثرات رکھنے والا فیصلہ سناتے ہوئے پنشنرز کے حقوق کو مضبوط کیا ہے۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ ریاستی حکومتیں برسرِ خدمت ملازمین کے مقابلے میں پنشنرز کو کم شرح پر مہنگائی ریلیف فراہم نہیں کر سکتیں۔
جسٹس منوج مشرا اور جسٹس پرسنا بی ورلے پر مشتمل بنچ نے کیرالہ حکومت بمقابلہ ایم وجئے کمار کیس میں یہ تاریخی فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کہا کہ ملازمین کو 14 فیصد جبکہ پنشنرز کو صرف 11 فیصد اضافہ دینا آئین کے آرٹیکل 14 یعنی برابری کے حق کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت نے اپنے مشاہدے میں زور دیتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کا اثر ریٹائرڈ اور برسرِ خدمت دونوں طرح کے ملازمین پر یکساں طور پر پڑتا ہے، اس لیے ڈی اے اور ڈی آر میں فرق رکھنے کی کوئی معقول بنیاد نہیں ہے۔ عدالت کے مطابق اگرچہ دونوں الگ طبقات ہو سکتے ہیں، مگر مہنگائی کے اثرات کے معاملے میں یہ تقسیم غیر اہم ہو جاتی ہے۔
کیرالہ اسٹیٹ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (KSRTC) نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ اس کی مالی حالت کمزور ہے، اسی لیے پنشنرز کو کم اضافہ دیا گیا۔ تاہم سپریم کورٹ نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مالی مشکلات ادائیگی میں تاخیر کی وجہ تو بن سکتی ہیں، لیکن مساوی حالات میں کم فائدہ دینا کسی طور قابل قبول نہیں۔
سپریم کورٹ نے کیرالہ ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ریاستی حکومت کی اپیل کو خارج کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ ایک فلاحی ریاست میں ریٹائرڈ افراد کے حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ فیصلہ ملک بھر کے لاکھوں سرکاری پنشنرز کے لیے ایک بڑی راحت اور قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے، اور آئندہ ریاستی حکومتوں کو پنشنرز کے ساتھ امتیازی سلوک سے روکے گا۔



