عمر خالد کی سپریم کورٹ کے ضمانت انکار فیصلے پر نظرثانی درخواست، اوپن کورٹ سماعت کی اپیل
سپریم کورٹ میں عمر خالد کیس کی اوپن کورٹ سماعت کی اپیل زیر غور
نئی دہلی 13 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سپریم کورٹ میں عمر خالد کی جانب سے 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے کیس میں دائر نظرثانی درخواست پر اوپن کورٹ میں سماعت کی اپیل کی گئی ہے۔ پیر کے روز سینئر وکیل کپل سبل نے عدالت کے سامنے اس معاملے کا ذکر کیا اور درخواست کی کہ اس کیس کی سماعت کھلی عدالت میں کی جائے۔
کپل سبل نے جسٹس اراوند کمار اور جسٹس پرسانہ بی ورالے پر مشتمل بنچ کے سامنے کہا کہ نظرثانی درخواست بدھ کے روز سماعت کے لیے مقرر ہے، اس لیے عدالت اس پر اوپن کورٹ میں سماعت پر غور کرے۔ اس پر بنچ نے جواب دیا کہ وہ دستاویزات کا جائزہ لے گی اور ضرورت پڑنے پر کیس کو طلب کیا جائے گا۔
عام طور پر نظرثانی درخواستیں محدود بنیادوں پر چیمبر میں ہی نمٹائی جاتی ہیں اور انہیں شاذ و نادر ہی کھلی عدالت میں سنا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ جنوری میں سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا، جبکہ دیگر پانچ ملزمین گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمٰن، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کو راحت فراہم کی گئی تھی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ استغاثہ کے مواد سے بظاہر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ملزمین کے خلاف مقدمہ بنتا ہے اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون کے تحت ضمانت پر پابندی عائد ہوتی ہے۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ سازش کے معاملات میں یہ ضروری نہیں کہ ہر ملزم براہ راست تشدد میں ملوث ہو، بلکہ مجموعی کردار اور تعلق کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے کہا تھا کہ یہ تمام مشاہدات صرف ضمانت کے مرحلے تک محدود ہیں اور ٹرائل پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ ٹرائل میں تاخیر خود بخود ضمانت کا حق پیدا نہیں کرتی اور ہر ملزم کے کردار کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔ عدالت نے یو اے پی اے کی دفعہ 43D(5) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر الزامات بظاہر درست معلوم ہوں تو ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں شہریت ترمیمی قانون (CAA) اور این آر سی کے خلاف احتجاج کے دوران فسادات پھوٹ پڑے تھے، جن میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
دہلی پولیس نے اس سازش کیس میں کل 18 افراد کو گرفتار کیا تھا، جن میں سے اب تک 11 کو ضمانت مل چکی ہے، جبکہ عمر خالد اور شرجیل امام بدستور جیل میں ہیں۔



