پٹرول 18 روپے اور ڈیزل 35 روپے فی لیٹر مہنگا ہونے کا امکان
انتخابات کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ تقریباً یقینی ہے
نئی دہلی 14 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)بھارت میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق انتخابات کے بعد پٹرول تقریباً 18 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 35 روپے فی لیٹر تک مہنگا کیا جا سکتا ہے، جس سے عام آدمی کی جیب پر براہ راست اثر پڑے گا۔
ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود ملک میں فی الحال ایندھن کی قیمتیں مستحکم رکھی گئی ہیں۔ اس فیصلے کے باعث سرکاری تیل کمپنیاں مسلسل نقصان برداشت کر رہی ہیں۔ تخمینوں کے مطابق تیل کمپنیوں کو پٹرول پر فی لیٹر قریب 18 روپے جبکہ ڈیزل پر 35 روپے تک خسارہ ہو رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ عرصے میں تیل کمپنیوں کو روزانہ تقریباً 2,400 کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا تھا، تاہم ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کے بعد یہ خسارہ کم ہو کر تقریباً 1,600 کروڑ روپے رہ گیا ہے۔ اس کے باوجود مالی دباؤ برقرار ہے۔
بھارت اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً 88 فیصد درآمد کرتا ہے، جس میں بڑی مقدار مشرق وسطیٰ اور روس سے آتی ہے۔ ایسے میں عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو بھی متاثر کر رہا ہے، جو 2026 کی پہلی سہ ماہی تک 20 ارب ڈالر تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔
حکومت کی جانب سے تیل پر ایکسائز ڈیوٹی میں گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں کمی کی گئی ہے۔ مالی سال 2017 میں یہ حصہ 22 فیصد تھا جو اب گھٹ کر تقریباً 8 فیصد رہ گیا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ٹیکس میں کمی سے مسئلہ مکمل حل نہیں ہوگا۔
بین الاقوامی سطح پر بھی ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکہ سمیت کئی ممالک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں، جس کے اثرات بھارت پر بھی پڑ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت میں اب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین تیل کمپنیاں خود کرتی ہیں، جو عالمی خام تیل کی قیمت، روپے کی قدر، ٹیکس اور دیگر اخراجات کو مدنظر رکھ کر روزانہ قیمتیں طے کرتی ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں اسی طرح بلند رہیں تو انتخابات کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ تقریباً یقینی ہے، جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔



