
سات ماہ کی شادی کے بعد طلاق کیلئے سپریم کورٹ کا 1.25 کروڑ روپے ادا کرنے کا حکم
"عدالت نے کہا مکمل ادائیگی کے بغیر طلاق ممکن نہیں"
نئی دہلی 14 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)بھارت کی سپریم کورٹ میں طلاق اور ازدواجی تنازعہ کے ایک اہم مقدمے کی سماعت کے دوران ایک غیر معمولی فیصلہ سامنے آیا، جس نے قانونی اور سماجی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ معاملہ ایک ایسے جوڑے سے متعلق ہے جو صرف سات ماہ تک ساتھ رہا، مگر تنازعہ اس حد تک بڑھ گیا کہ معاملہ عدالت عظمیٰ تک پہنچ گیا۔
سماعت کے دوران شوہر کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل نے پہلے ہی تصفیہ کے طور پر 1.65 کروڑ روپے ادا کر دیے ہیں، اس کے باوجود مزید مطالبات کیے جا رہے ہیں۔ وکیل نے عدالت کے روبرو کہا کہ ایک ہی تنازعے نے پورے خاندان کو شدید مالی اور قانونی دباؤ میں ڈال دیا، یہاں تک کہ بیوی کی جانب سے درج 21 مقدمات کے نتیجے میں شوہر کے والد اور بہن کو بھی جیل جانا پڑا۔
دلچسپ موڑ اس وقت آیا جب شوہر کے وکیل نے بیوی کے رویے کو مشہور ڈرامہ نگار ولیم شیکسپیئر کے ڈرامے دی مرچنٹ آف وینس کے کردار شائلاک Shylock سے تشبیہ دی، جو اپنے قرض کے بدلے ایک پاؤنڈ گوشت کا مطالبہ کرتا ہے۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا مؤکل مزید ادائیگی کی مالی سکت نہیں رکھتا۔
دوسری جانب بیوی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ معاملہ صرف نقد رقم تک محدود نہیں بلکہ ایک کلو سونے کی واپسی بھی تصفیے کا حصہ ہے، جو سسرال کے پاس موجود ہے۔ وکیل کے مطابق سابقہ معاہدے کے تحت بیوی کو یہ سونا بھی واپس ملنا چاہیے۔
تمام دلائل سننے کے بعد عدالت نے معاملہ نمٹاتے ہوئے واضح ہدایت جاری کی کہ شوہر یا تو ایک کلو سونا واپس کرے یا اس کی قیمت ادا کرے۔ شوہر کی مالی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے سونے کے بدلے 1.25 کروڑ روپے ادا کرنے کا حکم دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ جب تک شوہر مکمل رقم ادا نہیں کرے گا، طلاق کی قانونی منظوری نہیں دی جائے گی۔ یہ فیصلہ نہ صرف اس کیس کے لیے بلکہ مستقبل کے ازدواجی تنازعات کے لیے بھی ایک اہم نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔



