
زچگی کے دوران سنگین غفلت:نومولود کا دھڑ الگ، سر ماں کے پیٹ میں پھنس گیا
یوپی میں دل دہلا دینے والا واقعہ: غلط طریقۂ ڈیلیوری سے نومولود ہلاک
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اتر پردیش کے ضلع بستی میں پیش آنے والے ایک ہولناک واقعہ نے دیہی صحت کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جہاں مبینہ طبی غفلت کے باعث ایک نومولود اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا جبکہ ماں کو انتہائی نازک حالت میں بچایا گیا۔
یہ دل دہلا دینے والا واقعہ کلواری تھانہ علاقے کے مراد پور گاؤں میں پیش آیا، جہاں 27 سالہ پریما دیوی کو 8 اپریل کو دردِ زہ شروع ہوا۔ اہل خانہ نے فوری طور پر ایمبولینس کے ذریعے انہیں کدرہا کے کمیونٹی ہیلتھ سینٹر لے جانے کا فیصلہ کیا۔ راستے میں ہی بچے کی ٹانگیں باہر آنے لگیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔
متاثرہ خاتون کے شوہر نیرج کمار کے مطابق، جیسے ہی ایمبولینس اسپتال پہنچی، وہاں موجود عملے نے صورتحال کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے عجلت میں قدم اٹھایا۔ الزام ہے کہ ایک نرس نے انجکشن دینے کے بعد بچے کی ٹانگیں پکڑ کر زبردستی کھینچیں، جس کے نتیجے میں نومولود کا جسم سر سے الگ ہو گیا۔ اس دوران بچے کا سر ماں کے پیٹ میں ہی پھنس گیا، اور بچہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
واقعہ کے بعد سی ایچ سی عملہ ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے خاتون کو ایک نجی نرسنگ ہوم بھیج دیا۔ الزام ہے کہ وہاں بھی فوری علاج کے بجائے فیس وصول کی گئی اور مناسب طبی امداد فراہم نہیں کی گئی۔ بعد ازاں، خاتون کو بستی میڈیکل کالج منتقل کیا گیا۔
بستی میڈیکل کالج میں ڈاکٹر کلپنا مشرا اور ان کی ٹیم نے فوری طور پر خاتون کی حالت کو دیکھتے ہوئے ایمرجنسی آپریشن کا فیصلہ کیا۔ تقریباً دو گھنٹے طویل پیچیدہ سرجری کے بعد بچے کا سر رحم سے نکالا گیا اور ماں کی جان بچا لی گئی۔
طبی ماہرین کے مطابق، اس کیس میں بچہ “بریچ پوزیشن” میں تھا، جس میں بچے کے پاؤں پہلے باہر آتے ہیں۔ ایسی حالت میں نارمل ڈیلیوری انتہائی خطرناک ہوتی ہے اور عموماً سیزیرین آپریشن (C-section) کو ترجیح دی جاتی ہے۔ زبردستی کھینچنے سے گردن پر شدید دباؤ پڑتا ہے، جو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
متاثرہ خاندان نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب، سی ایم او ڈاکٹر راجیو نگم نے واقعہ سے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے انکوائری کا حکم دینے کی بات کہی ہے۔
یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندان کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے بلکہ دیہی علاقوں میں صحت کے نظام، عملے کی تربیت، اور ہنگامی طبی سہولیات کی حقیقت کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسے واقعات کے بعد بھی اصلاحات کی سنجیدہ کوشش کی جائے گی یا یہ بھی دیگر واقعات کی طرح فائلوں میں دب کر رہ جائے گا؟



