بین ریاستی خبریںجرائم و حادثات

گورکھپور میں شادی کے نام پر فراڈ گینگ بے نقاب، سات گرفتار، دلہن فرار

شادی کے نام پر دھوکہ دینے والا گینگ آخرکار قانون کے شکنجے میں آ گیا

گورکھپور 14 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اتر پردیش کے گورکھپور میں شادی کے نام پر لوگوں کو لوٹنے والے ایک منظم بین ریاستی گینگ کا پردہ فاش ہو گیا ہے۔ چلواتال تھانے کی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے سات ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ فرضی دلہن اور اس کی گود لی ہوئی بہن تاحال فرار ہیں۔ پولیس کی ٹیمیں دونوں کی گرفتاری کے لیے مسلسل چھاپے مار رہی ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ گینگ راجستھان اور ہریانہ کے ایسے افراد کو نشانہ بناتا تھا جو شادی کے خواہش مند ہوتے تھے۔ ملزمان پہلے خوبصورت لڑکیوں کی تصاویر دکھا کر متاثرین کو لالچ دیتے، پھر انہیں گورکھپور بلا کر شادی کی جھوٹی تقریب کا اہتمام کرتے تھے۔

گینگ کا سرغنہ ہسٹری شیٹر انکور سنگھ تھا، جو خود کو پولیس انسپکٹر ظاہر کرتا تھا۔ اس کے ساتھی دھیریندر یادو عرف ٹنٹن، روی چودھری، منا جیسوال اور نوامی شرما پولیس اہلکاروں کا روپ دھارتے تھے، جبکہ شیلا دیوی دلہن کی خالہ کا کردار ادا کرتی تھی۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے تقریباً ایک لاکھ پینسٹھ ہزار روپے نقد، جعلی پولیس شناختی کارڈ اور آدھار کارڈ بھی برآمد کیے ہیں۔

تفتیش میں انکشاف ہوا کہ گینگ نے ہریانہ کے ایک دلال راجو شرما کو بھی اپنے ساتھ ملا رکھا تھا، جو ہریانہ اور راجستھان میں غیر شادی شدہ یا عمر رسیدہ مردوں کو تلاش کرتا تھا۔ انہیں اتر پردیش اور بہار کی لڑکیوں سے شادی کا جھانسہ دے کر گورکھپور بلایا جاتا تھا۔ ناچ گانے والی لڑکیوں کو پیسے دے کر دلہن بننے پر آمادہ کیا جاتا تھا اور ایک خاتون خالہ بن کر پورے ماحول کو حقیقی ظاہر کرتی تھی۔

جب دولہا اور اس کا خاندان چلواتال میں انکور سنگھ کے گھر پہنچتا تو اعتماد قائم کرنے کے لیے دلہا اور دلہن ایک دوسرے کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالنے کی رسم ادا کرتے تھے۔ جیسے ہی یہ رسم مکمل ہوتی ، انکور سنگھ جعلی پولیس ٹیم کے ساتھ انسپکٹر کے بھیس میں موقع پر پہنچتا اور دولہا و اس کے اہل خانہ کو غیر قانونی شادی یا دیگر جھوٹے الزامات میں پھنسانے کی دھمکی دے کر یرغمال بنا لیتا تھا، جس کے بعد ان سے لاکھوں روپے بٹورے جاتے تھے۔

ایک معاملے میں راجستھان کے ایک نوجوان سے تقریباً 3.11 لاکھ روپے وصول کیے گئے۔ متاثرہ کی شکایت پر 13 مارچ کو چلواتال تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گینگ کو بے نقاب کر دیا۔

پولیس تحقیقات میں یہ بھی معلوم ہوا کہ فرار ہونے والی دلہن فتح پور کی رہنے والی ہے اور گورکھپور کے کدھا گھاٹ علاقے میں کرائے کے مکان میں رہتی تھی، تاہم پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی وہ فرار ہو گئی۔ اسے گرفتار کرنے کے لیے پولیس ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں۔

سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (نارتھ) گیانیندر کمار کے مطابق گرفتار ساتوں ملزمان کو جیل بھیج دیا گیا ہے، جبکہ گینگ کے دیگر ارکان کی تلاش جاری ہے۔ پولیس موبائل لوکیشن اور کال ڈیٹیل کی مدد سے فرار ملزمان کی تلاش میں مصروف ہے اور یہ بھی جانچ کی جا رہی ہے کہ اس گینگ نے اب تک کتنے خاندانوں کو اپنا نشانہ بنایا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button