بین ریاستی خبریںجرائم و حادثات

مہاراشٹر: 180 کمسن لڑکیوں کے استحصال کا سنسنی خیز کیس، 350 ویڈیوز بنانے والا ملزم گرفتار

مرکزی ملزم سمیت کئی گرفتار، ایس آئی ٹی تشکیل

ممبئی 15 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مہاراشٹر کے امراوتی ضلع سے کمسن لڑکیوں کے مبینہ استحصال اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا ایک نہایت سنگین معاملہ سامنے آیا ہے، جس نے پورے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ کیس میں دیگر افراد کی شمولیت کی بھی تحقیقات جاری ہیں۔

پولیس کے مطابق مرکزی ملزم محمد ایاز عرف تنویر، پراٹواڑا کا رہائشی ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خصوصاً واٹس ایپ اور اسنیپ چیٹ کے ذریعے کمسن لڑکیوں سے رابطہ قائم کرتا اور انہیں دھوکہ دے کر اپنے جال میں پھنساتا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملزم متاثرہ لڑکیوں کو مختلف شہروں، جن میں ممبئی اور پونے شامل ہیں، لے جا کر ان کے ساتھ استحصال کرتا اور نازیبا ویڈیوز بناتا تھا۔ بعد ازاں ان ویڈیوز کو بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا تاکہ متاثرین کو خاموش رکھا جا سکے۔ بعض معاملات میں متاثرہ لڑکیوں کو دباؤ میں رکھ کر مزید استحصال کا نشانہ بنانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔

تحقیقات کے مطابق ملزم نے 350 سے زائد قابل اعتراض ویڈیوز تیار کیں۔ پولیس نے اس کا موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل آلات ضبط کر لیے ہیں جن کا فارنزک تجزیہ جاری ہے۔ سائبر سیل بھی اس معاملے میں سرگرم ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ مواد کسی اور افراد یا نیٹ ورک کے ساتھ شیئر کیا گیا۔

اس کیس میں ایک اور ملزم ایان احمد تنویر احمد عرف ایاز کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ مزید تین مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن میں عزیر خان بھی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق دورانِ تفتیش بعض ملزمان نے اپنے کردار سے متعلق بیانات دیے ہیں، تاہم پولیس ان کی تصدیق کر رہی ہے اور ہر ملزم کے کردار کا تعین کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق کمسن لڑکیوں کو مبینہ طور پر واٹس ایپ اور اسنیپ چیٹ گروپس کے ذریعے منظم طریقے سے نشانہ بنایا جاتا تھا، جہاں متاثرین کی شناخت کر کے انہیں پھنسایا جاتا تھا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ اس کے پیچھے ایک منظم نیٹ ورک بھی ہو سکتا ہے۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب راجیہ سبھا کے رکن انل بونڈے نے پولیس کو شکایت دی اور فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل نہیں دی گئی تو احتجاج کیا جائے گا۔

معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے حکام نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دے دی ہے تاکہ کیس کی تیز اور منظم انداز میں جانچ کی جا سکے۔ اس ٹیم میں 10 تجربہ کار پولیس افسران اور 36 اہلکار شامل ہیں جو صرف اسی کیس پر کام کر رہے ہیں۔

پولیس نے ملزمان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 294 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ اس کے علاوہ پوکسو ایکٹ کی دفعات 8 اور 12 اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی متعلقہ دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر متاثرین خود سامنے نہیں آئے تھے، تاہم حکام نے متاثرہ لڑکیوں اور ان کے اہل خانہ سے اپیل کی ہے کہ وہ آگے آئیں اور تحقیقات میں تعاون کریں۔ ساتھ ہی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ان کی شناخت مکمل طور پر محفوظ رکھی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button