کرناٹک سیاست میں ہلچل: کانگریس نے عبدالجبّار کو معطل کر دیا
مخالف جماعت سرگرمیوں کے الزام میں پارٹی کی بنیادی رکنیت سے معطل
بنگلورو 15 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) کرناٹک میں کانگریس پارٹی نے رکن قانون ساز کونسل عبدالجبّار کو مبینہ طور پر مخالف جماعت سرگرمیوں کے الزام میں پارٹی کی بنیادی رکنیت سے معطل کر دیا ہے۔ یہ کارروائی فوری طور پر نافذ العمل قرار دی گئی ہے، جس کی تصدیق کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) کی جانب سے جاری بیان میں کی گئی۔
عبدالجبّار، جو اس سے قبل کے پی سی سی اقلیتی شعبہ کے سربراہ کے عہدے سے مستعفی ہو چکے تھے، داونگیرے جنوبی اسمبلی ضمنی انتخاب میں پارٹی ٹکٹ کے دعویدار بھی تھے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے پارٹی کے نامزد امیدوار شمانور سمرتھ کے خلاف کام کیا اور ایک حریف امیدوار کی حمایت کی، جس سے پارٹی قیادت میں تشویش پیدا ہوئی۔
کے پی سی سی صدر اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ عبدالجبّار کو داونگیرے جنوبی ضمنی انتخاب میں مخالف جماعت سرگرمیوں کے سبب معطل کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی شیوکمار نے اپنے دور میں تشکیل دی گئی تمام اقلیتی کمیٹیوں کو بھی تحلیل کرنے کا اعلان کیا۔
سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو پارٹی کے اندرونی اختلافات کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ قیادت نے انتخابی عمل کے دوران نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے فوری قدم اٹھایا اور اقلیتی ونگ کی تنظیم نو کا فیصلہ کیا۔
معطلی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے عبدالجبّار نے کہا کہ وہ پہلے باضابطہ حکم نامہ حاصل کر کے اس کا جائزہ لیں گے، اس کے بعد ہی تفصیلی ردعمل دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے انہیں معطل کیا ہے، یقیناً انہوں نے اس کے لیے وجوہات دی ہوں گی، جنہیں وہ دیکھیں گے۔
انہوں نے انتخابی نتائج سے متعلق کسی بھی منفی قیاس آرائی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کی شکست کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور پارٹی کامیاب ہوگی۔ امیدوار کے انتخاب کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ٹکٹ کی تقسیم ایک ہی نام تک محدود نہیں ہونی چاہیے اور اس سلسلے میں برادری کی نمائندگی کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا۔
عبدالجبّار نے مزید کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ پارٹی نے اتنی جلدی فیصلہ کیوں کیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی حیرت ظاہر کی کہ ابھی تک انہیں کوئی باضابطہ معطلی کا خط موصول نہیں ہوا اور وہ میڈیا کے ذریعے اس فیصلے سے واقف ہوئے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ان پر الزامات عائد کیے گئے ہیں تو اس کے شواہد کہاں ہیں، اور مطالبہ کیا کہ متعلقہ ثبوت عوام کے سامنے لائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ نوٹس موصول ہونے کے بعد مکمل جواب دیں گے۔
یاد رہے کہ ضمنی انتخاب کے نتائج چار مئی کو متوقع ہیں اور پولنگ کو ابھی چند ہی دن ہوئے ہیں۔ عبدالجبّار نے دعویٰ کیا کہ وہ اور دیگر رہنما نشانہ بنائے جا رہے ہیں، حالانکہ انہوں نے اپنے طالب علمی دور سے پارٹی کے لیے مسلسل کام کیا ہے۔



