ناسک ٹی سی ایس کیس: گرفتار ملازم کی بیوی کا دعویٰ,’میرے شوہر کا دانش شیخ کے معاملے سے کوئی تعلق نہیں‘
’تعلق بگڑا، کئی زندگیاں برباد‘: گرفتار ملازم کی بیوی کا چونکا دینے والا انکشاف
ممبئی 15 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ناسک میں ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز کے دفتر سے جڑے مبینہ جنسی ہراسانی اور جبری مذہبی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے معاملے میں نیا موڑ اس وقت آیا جب ایک گرفتار ملازم کی بیوی نے دعویٰ کیا کہ یہ پورا معاملہ دراصل ایک بگڑے ہوئے تعلق کا نتیجہ ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق ناسک کی رہنے والی خاتون نے کہا کہ ملزم دانش شیخ اور شکایت کنندہ کے درمیان خراب ہونے والے تعلق نے دیگر افراد کی زندگیاں بھی متاثر کر دی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنسی ہراسانی اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات میں نامزد دیگر افراد، جن میں ان کے شوہر بھی شامل ہیں، بے قصور ہیں اور مختلف غیر متعلقہ معاملات کو ایک ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔
آٹھ خواتین ملازمین نے الزام لگایا تھا کہ سینئر ساتھیوں نے انہیں ذہنی اور جنسی طور پر ہراساں کیا جبکہ عملہ امور کے شعبے نے ان کی شکایات کو نظرانداز کیا۔ بعد ازاں جبری مذہبی تبدیلی کے الزامات بھی سامنے آئے، جن میں گوشت کھانے اور نماز ادا کرنے پر مجبور کرنے جیسے دعوے شامل ہیں، جس کے بعد خصوصی تفتیشی ٹیم قائم کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ملازم کی بیوی نے کہا کہ دفتر میں ہر شخص کو دانش شیخ اور شکایت کنندہ کے تعلق کے بارے میں معلوم تھا۔ ان کے بقول ان کے شوہر نے بتایا تھا کہ خاتون گھنٹوں انتظار کرتی تھی اور اس سے متاثر ہو کر روزے رکھنے اور مخصوص انداز اختیار کرنے لگی تھی، جس پر اس کے والدین ناراض تھے۔
انہوں نے کہا کہ جب یہ تعلق ختم ہوا تو شکایت کنندہ کے والدین نے کچھ سیاسی شخصیات سے رابطہ کیا اور اسے پولیس میں شکایت درج کرانے پر آمادہ کیا، جس میں ایسے افراد کے نام بھی شامل کیے گئے جن کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
خاتون کے مطابق پولیس نے ان کے اہل خانہ کو بتایا کہ ان کے شوہر کی گرفتاری کسی ایک مقدمے کی بنیاد پر نہیں بلکہ دیگر خواتین کی جانب سے درج متعدد مقدمات کی وجہ سے عمل میں آئی۔
انہوں نے اپنے شوہر کے خلاف مذہبی دباؤ کے الزامات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ سبزی خور ساتھیوں کے جذبات کا خیال رکھتے تھے اور کبھی اپنے کھانے میں گوشت نہیں لاتے تھے۔
پولیس کے مطابق دانش شیخ کے خلاف زیادتی کا مقدمہ درج ہے جبکہ مجموعی طور پر آٹھ ملازمین کے خلاف نو مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ان میں عملہ امور کی ایک عہدیدار ندا خان بھی شامل ہیں جن پر خواتین کی شکایات کو نظرانداز کرنے کا الزام ہے۔ اب تک سات ملازمین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
یہ معاملہ ایک خاتون ملازم کی شکایت سے شروع ہوا تھا، جس نے الزام لگایا کہ ایک ساتھی نے شادی کا جھانسہ دے کر اس سے تعلق قائم کیا۔ جیسے جیسے تفتیش آگے بڑھی، مزید سات خواتین بھی سامنے آئیں اور اسی نوعیت کے الزامات عائد کیے، جس سے معاملہ مزید سنگین ہو گیا۔
شکایات میں جنسی ہراسانی، نامناسب چھونا، قابل اعتراض جملے کہنا، تعاقب کرنا اور ذہنی دباؤ ڈالنے جیسے الزامات شامل ہیں۔ بعض متاثرین نے یہ بھی کہا کہ انہیں مخصوص مذہبی رسومات اپنانے یا مذہب تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔
تحقیقات کے دوران پولیس نے چالیس سے زائد نگرانی کیمروں کی ریکارڈنگ کا جائزہ لیا ہے اور متاثرہ خواتین و ملزمان کے بیانات قلمبند کیے جا رہے ہیں۔ ایک خفیہ کارروائی کے ذریعے ایک ملزم کو گرفتار بھی کیا گیا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق یہ واقعات 2022 سے 2026ء کے درمیان پیش آئے۔ حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور ہر پہلو کا باریکی سے جائزہ لیا جا رہا ہے، جس کے بعد حتمی نتیجہ سامنے آئے گا۔
ادھر ٹاٹا سنز کے چیئرمین این چندرشیکرن نے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اندرونی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سامنے آنے والے الزامات نہایت سنگین اور تکلیف دہ ہیں۔ کمپنی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اندرونی جانچ کی قیادت آرتی سبرامنیم کریں گی۔



