برتھ رائٹ شہریت پر تنازعہ: ٹرمپ نے متنازع بیان دوبارہ شیئر کر دیا
برتھ رائٹ شہریت پر جاری بحث نے امریکہ میں سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا
واشنگٹن 23 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیدائشی شہریت کے معاملے پر ایک متنازع بیان کو دوبارہ شیئر کر کے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس بیان میں ریڈیو میزبان مائیکل سیویج نے امیگریشن کے حوالے سے سخت اور اشتعال انگیز دعوے کیے، جن میں بھارت کا بھی ذکر شامل ہے۔
رپورٹس کے مطابق، سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کیے گئے ویڈیو میں سیویج نے دعویٰ کیا کہ کچھ غیر ملکی خاندان امریکہ میں بچوں کی پیدائش کو شہریت حاصل کرنے کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ صرف بچے کی پیدائش کے لیے امریکہ آتے ہیں اور پھر پورے خاندان کو وہاں منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سیویج نے اپنی گفتگو میں بھارت اور چین کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ملازمتوں کے مواقع زیادہ تر انہی ممالک کے افراد کے لیے مخصوص ہو گئے ہیں، تاہم انہوں نے اپنے دعوؤں کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بھارت سمیت کئی ممالک اس نظام کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت مزید اہم ہو گیا ہے جب پیدائشی شہریت کی تشریح امریکہ کی سپریم کورٹ میں زیر بحث ہے۔ یہ قانونی اور سیاسی تنازع امریکہ میں امیگریشن پالیسی کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔
سیویج نے امریکی معاشرے کی بدلتی ہوئی ساخت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کا "میلٹنگ پاٹ” تصور اب ختم ہو چکا ہے اور نئے تارکین وطن پہلے کی طرح معاشرے میں ضم نہیں ہو رہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو قومی شناخت کے لیے خطرہ قرار دیا۔
انہوں نے ایک امریکی شہری حقوق کی تنظیم کو بھی نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ یہ تنظیم امیگریشن کے موجودہ رجحانات کو فروغ دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیدائشی شہریت کا فیصلہ عدالتوں کے بجائے عوامی رائے سے ہونا چاہیے۔
دوسری جانب، ٹرمپ کی جانب سے اس بیان کو دوبارہ شیئر کرنا ان کے اس مؤقف کی عکاسی کرتا ہے جس میں وہ طویل عرصے سے پیدائشی شہریت کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے حالیہ دنوں میں سپریم کورٹ میں زیر سماعت اس معاملے پر بھی تنقید کی اور قوانین میں تبدیلی کا مطالبہ کیا۔
امیگریشن اور شہریت کے قوانین امریکہ کی سیاست میں ایک مرکزی موضوع بنے ہوئے ہیں، اور اس حوالے سے جاری بحث آنے والے وقت میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔



