مائیکل جیکسن کی پراسرار موت: مکمل کہانی، حقیقت اور گردش کرتی افواہیں
مائیکل جیکسن کی موت کا معمہ دوبارہ زیرِ بحث
لاس اینجلس، 22 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)دنیا کے شہرۂ آفاق پاپ گلوکار مائیکل جیکسن کی زندگی کی طرح ان کی موت بھی آج تک ایک معمہ بنی ہوئی ہے، اور ان پر بننے والی نئی بایوپک کی ریلیز سے قبل ایک بار پھر ان کی وفات سے جڑے سوالات اور سازشی نظریات زور پکڑ رہے ہیں۔ مداحوں اور تجزیہ کاروں کے درمیان یہ موضوع دوبارہ بحث کا مرکز بن چکا ہے۔
25 جون 2009 کو لاس اینجلس میں مائیکل جیکسن کی اچانک موت نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ابتدا میں اسے دل کا دورہ قرار دیا گیا، تاہم بعد میں سامنے آنے والی طبی رپورٹس اور تحقیقات نے واضح کیا کہ ان کی موت طاقتور بے ہوشی کی دوا پروپوفول کے زیادہ استعمال کے باعث ہوئی، جو عام حالات میں صرف آپریشن تھیٹر میں استعمال کی جاتی ہے۔
تحقیقات کے مطابق یہ دوا انہیں ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر کونراڈ مرے نے دی تھی، جس پر عدالت نے انہیں غیر ارادی قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنائی۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد باضابطہ طور پر یہ تسلیم کیا گیا کہ مائیکل جیکسن کی موت طبی غفلت کا نتیجہ تھی۔
اس کے باوجود مختلف سازشی نظریات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں۔ ایک نظریہ یہ ہے کہ مائیکل جیکسن نے مالی مسائل اور "دس از اٹ” کنسرٹ سیریز کے شدید دباؤ سے بچنے کے لیے اپنی موت کا ڈرامہ رچایا۔ کچھ افراد کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وہ آج بھی زندہ ہیں اور کسی خفیہ مقام پر زندگی گزار رہے ہیں۔
ایک اور خیال یہ پیش کیا جاتا ہے کہ انہیں دانستہ طور پر قتل کیا گیا تاکہ ان کے قیمتی میوزک کیٹلاگ پر قبضہ کیا جا سکے، کیونکہ ان کے گانوں کے حقوق اربوں کی مالیت رکھتے تھے۔ اس سلسلے میں ان کی بہن ٹویا جیکسن نے بھی ماضی میں سازش کا عندیہ دیا تھا، جس نے ان افواہوں کو مزید تقویت دی۔
ایک نظریہ یہ بھی سامنے آیا کہ مائیکل جیکسن نے صرف ایک معمولی اوور ڈوز کا ڈرامہ کرنے کی کوشش کی تاکہ اپنے کنسرٹس ملتوی کرا سکیں، مگر معاملہ قابو سے باہر ہو گیا اور ان کی جان چلی گئی۔
کچھ غیر معمولی دعوؤں میں یہ بھی کہا گیا کہ وہ کلوننگ اور ڈی این اے محفوظ کرنے جیسے تصورات میں دلچسپی رکھتے تھے تاکہ ہمیشہ زندہ رہ سکیں، تاہم ان دعوؤں کی کوئی سائنسی یا مستند بنیاد موجود نہیں۔
مائیکل جیکسن نے اپنی لازوال موسیقی، خاص طور پر "تھرلر” جیسے عالمی شہرت یافتہ البمز کے ذریعے پاپ میوزک کو ایک نئی پہچان دی۔ ان کا انداز، رقص اور گائیکی آج بھی دنیا بھر کے فنکاروں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
ان کی موت کے کئی سال بعد بھی سازشی نظریات کا سلسلہ جاری ہے، مگر حقیقت وہی ہے جو سرکاری تحقیقات اور عدالتی فیصلے میں سامنے آئی کہ ان کی وفات ادویات کے غلط استعمال کا نتیجہ تھی، جبکہ باقی تمام دعوے محض قیاس آرائیاں ہیں جن کی کوئی ٹھوس بنیاد موجود نہیں۔



