سعودی مدد رنگ لائی، بنگلہ دیش نے 22 ہزار روہنگیا مسلمانوں کو شہریت دے دی
بنگلہ دیش نے 22 ہزار روہنگیا کو پاسپورٹ دے دیے
الریاض 22 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سعودی عرب نے میانمار سے بے دخل کیے گئے ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہوئے تقریباً 22 ہزار افراد کو قانونی شناخت دلوانے میں مدد فراہم کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش نے سعودی مطالبے پر ان مہاجرین کو پاسپورٹ جاری کیے ہیں تاکہ وہ قانونی طور پر وہاں قیام کر سکیں اور روزگار کے مواقع سے بہتر فائدہ اٹھا سکیں۔
بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ صلاح الدین احمد کے مطابق یہ پاسپورٹ ان افراد کو دیے گئے ہیں جو قانونی طریقے سے سعودی عرب میں کام کے لیے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے نہ صرف ان کی زندگی آسان ہوگی بلکہ ان کی شناخت بھی واضح ہو سکے گی۔
دوسری جانب سعودی حکام نے نشاندہی کی ہے کہ اب بھی تقریباً 69 ہزار روہنگیا ایسے ہیں جو بغیر کسی قانونی دستاویز کے ملک میں مقیم ہیں۔ سعودی سفارتکاروں نے بنگلہ دیش پر زور دیا ہے کہ ان افراد کو بھی فوری طور پر پاسپورٹ فراہم کیے جائیں تاکہ ان کی نگرانی اور انتظام بہتر طریقے سے کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق سعودی عرب میں موجود روہنگیا افراد کی مجموعی تعداد ایک لاکھ کے قریب ہے، جن میں سے بڑی تعداد غیر دستاویزی ہے۔ اس صورتحال نے سعودی حکام کے لیے انتظامی اور سکیورٹی مسائل کو بڑھا دیا ہے۔ سعودی حکومت چاہتی ہے کہ تمام افراد کے پاس قانونی کاغذات ہوں تاکہ ان کی نقل و حرکت اور روزگار کو منظم کیا جا سکے۔
سعودی عرب کو یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ اگر ان مہاجرین کو قانونی حیثیت نہ دی گئی تو مستقبل میں ان کی واپسی ایک پیچیدہ مسئلہ بن سکتی ہے، کیونکہ بنگلہ دیش پہلے ہی مزید مہاجرین کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔
یہ معاملہ سعودی عرب کے بڑے ترقیاتی منصوبے "وژن 2030” سے بھی جڑا ہوا ہے، جس کے تحت غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ امیگریشن قوانین کو مزید سخت بنایا جا رہا ہے، ایسے میں غیر دستاویزی افراد کی موجودگی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں پہلے ہی 10 لاکھ سے زائد روہنگیا مہاجرین مقیم ہیں، جس کے باعث وسائل پر دباؤ بڑھ چکا ہے۔ خوراک کی قلت، معاشی مشکلات اور بعض علاقوں میں جرائم میں اضافے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش اس وقت نازک مالی حالات سے گزر رہا ہے اور وہ کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کرنا چاہتا ہے جس سے اس پر مزید بوجھ پڑے۔ ساتھ ہی سعودی عرب کے ساتھ اقتصادی تعلقات بھی اس کے لیے نہایت اہم ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ لاکھوں بنگلہ دیشی کارکن سعودی عرب میں برسرِ روزگار ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر بنگلہ دیش سعودی مطالبات کو نظر انداز کرتا ہے تو اس کے معاشی اثرات شدید ہو سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت خطے میں مہاجرین کے مسئلے، عالمی تعاون اور انسانی ہمدردی کے تقاضوں پر ایک نئی بحث کو جنم دے رہی ہے، جہاں ایک طرف قانونی شناخت دی جا رہی ہے تو دوسری جانب مستقل حل اب بھی دور دکھائی دیتا ہے۔



