ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کر دی
ٹرمپ کی جنگ بندی توسیع پر ایران کا ردعمل، ’نئی سازش‘ کا شبہ
واشنگٹن 22 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع کا اعلان کیا ہے جب تک تہران کی جانب سے کوئی واضح اور متفقہ تجویز سامنے نہیں آتی۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ یہ اقدام سفارتی عمل کو موقع دینے کے لیے اٹھایا گیا، خاص طور پر اس درخواست کے بعد جو پاکستان کی قیادت کی جانب سے کی گئی تھی۔ ان کے مطابق اسلام آباد نے زور دیا کہ ایران کو مذاکرات کے لیے وقت دیا جائے تاکہ کسی ممکنہ تصادم سے بچا جا سکے۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ اگرچہ جنگ بندی میں نرمی دی گئی ہے، لیکن فوجی دباؤ برقرار رکھا جائے گا اور امریکی افواج ہر ممکن کارروائی کے لیے تیار رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے اندرونی اختلافات مذاکرات میں تاخیر کی بڑی وجہ ہیں۔
دوسری جانب ایران نے اس اعلان کو شک کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ ایرانی قیادت کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع دراصل وقت حاصل کرنے کی حکمت عملی ہو سکتی ہے تاکہ اچانک فوجی کارروائی کی جا سکے۔محمد باقر قالیباف کے ایک مشیر نے امریکی اقدامات کو "دباؤ کی پالیسی” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس کا جواب دیا جا سکتا ہے۔
ایرانی عسکری حکام نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حالات مزید بگڑے تو پہلے سے طے شدہ اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔ پاسداران انقلاب سے وابستہ ذرائع کے مطابق ایران کسی بھی ممکنہ حملے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور وہ اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرے گا۔
اسی تناظر میں آبنائے ہرمز کی اہمیت ایک بار پھر نمایاں ہو گئی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران اس اہم گزرگاہ کو بند کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ اس سے اسے یومیہ بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑے گا، جبکہ تہران کی جانب سے اس معاملے پر سخت بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔
ادھر امن مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ پاکستان نے دونوں ممالک کو اسلام آباد میں مذاکرات کے اگلے دور کے لیے مدعو کیا تھا، تاہم ایران نے تاحال شرکت کے حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ امریکی نائب صدر کے دورۂ پاکستان کی منسوخی نے بھی اس عمل کو مزید غیر واضح بنا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے، جہاں ایک طرف سفارتکاری کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے تو دوسری طرف عسکری تیاریوں میں بھی کوئی کمی نہیں کی گئی۔ ایسے میں یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ جنگ بندی مستقل امن کی طرف لے جائے گی یا کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔
ٹرمپ کی جنگ بندی توسیع پر ایران کا ردعمل، ’نئی سازش‘ کا شبہ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جاری عارضی جنگ بندی میں توسیع کے اعلان نے جہاں عالمی سطح پر کسی حد تک اطمینان پیدا کیا ہے، وہیں ایران میں اس فیصلے کو لے کر شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔ ایرانی قیادت کے بعض حلقوں نے اس اقدام کو ایک ممکنہ خفیہ منصوبہ قرار دیا ہے جس کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے ایک مشیر نے امریکی اعلان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنگ بندی دراصل کسی اچانک فوجی کارروائی کی تیاری کا حصہ ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق امریکہ ایک حکمت عملی کے تحت وقت حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ مستقبل میں غیر متوقع اقدام کیا جا سکے۔ اس بیان کے بعد ایران میں حکومتی اور عسکری حلقوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ایران اس پیش رفت کو محض سفارتی اقدام نہیں بلکہ دباؤ بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ مشیر نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی پابندیوں اور ناکہ بندی کے خلاف موثر اور مضبوط ردعمل تیار کیا جائے تاکہ ممکنہ خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر نے 21 اپریل کو جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کی ہدایت بھی دی تھی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تہران کو مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے پہلے مشترکہ لائحہ عمل پیش کرنا ہوگا۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایران کے اندرونی اختلافات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہی صورتحال جنگ بندی بڑھانے کی ایک وجہ بنی ہے۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد کا اپنا طے شدہ دورہ ملتوی کر دیا ہے جہاں ایران کے ساتھ آئندہ مرحلے کی بات چیت متوقع تھی۔ وہائٹ ہاؤس کے حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ فی الحال ایران کے واضح موقف کا انتظار کر رہا ہے۔
ادھر ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی مذاکرات میں اس وقت تک شامل نہیں ہوگا جب تک امریکہ اپنی معاشی اور بحری ناکہ بندی ختم نہیں کرتا۔ اس شرط نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید گہرا کر دیا ہے اور سفارتی حل کی راہ میں رکاوٹ پیدا کر دی ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں معمولی غلط فہمی بھی بڑے تنازع کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے عالمی برادری دونوں ممالک سے تحمل اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہی ہے۔



