ایران کی پاکستان پر سفارتی جانبداری کا الزام، ثالثی کردار پر سوالات
"ایران نے پاکستان کے ثالثی کردار پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے امریکی جھکاؤ قرار دیا"
تہران 22 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری ممکنہ مذاکرات کے تناظر میں پاکستان پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرتے ہوئے اس کے ثالثی کردار پر کھلے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ایک تجزیاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان غیر جانبدار ثالث کے بجائے امریکی موقف کے قریب دکھائی دے رہا ہے، جس سے سفارتی توازن متاثر ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کو خاص طور پر پاکستان کے فوجی سربراہ عاصم منیر کے کردار پر اعتراض ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایران کی ایک اہم مسودہ تجویز امریکہ تک پہنچانے کی ذمہ داری لی تھی، تاہم اس پر اب تک کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ ایرانی حلقوں کا الزام ہے کہ یا تو اس تجویز کو مکمل طور پر پیش نہیں کیا گیا یا پھر امریکی ردعمل کو شفاف انداز میں ایران تک نہیں پہنچایا گیا۔
ایرانی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ ثالثی ڈھانچہ اس انداز میں تشکیل دیا گیا ہے جس سے امریکہ کو سفارتی فائدہ حاصل ہو جبکہ ایران کو دباؤ میں لایا جا سکے۔ اسی تناظر میں ایران کے مجوزہ دس نکاتی فارمولے کو نظر انداز کیے جانے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی قیادت، بشمول جے ڈی وینس، ایران کی تجاویز کے بجائے اپنی شرائط کو مذاکرات کی بنیاد بنانے پر زور دے رہی ہے۔
ایران نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے میڈیا اور نفسیاتی دباؤ پیدا کیا جا رہا ہے۔ تہران کے مطابق اسلام آباد یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ مذاکرات جلد شروع ہونے والے ہیں، حالانکہ ایران نے موجودہ حالات میں ایسی کسی پیش رفت سے انکار کیا ہے۔ ایرانی موقف کے مطابق یہ حکمت عملی ایران کو عالمی سطح پر غیر سنجیدہ یا امن مخالف دکھانے کی کوشش ہو سکتی ہے۔
سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے الزامات خطے میں پہلے سے موجود حساس تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر ثالث مکمل غیر جانبداری اختیار نہیں کرتا تو مذاکراتی عمل ناکامی سے دوچار ہو سکتا ہے۔ تہران کو خدشہ ہے کہ موجودہ فریم ورک میں شرکت کا مطلب صرف اپنے مطالبات سے دستبرداری ہوگا۔
حالیہ پیش رفت نے ایران اور پاکستان کے درمیان اعتماد کے فقدان کو نمایاں کر دیا ہے، جس سے مستقبل میں سفارتی تعلقات کی نوعیت پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔



