قومی خبریں

دھار عدالت نے 1935 میں بھوج شالا کو مسجد قرار دیا: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں مسلم فریق کا دعویٰ

1935 کا سرکاری اعلان بھوج شالا کو مسجد قرار دیتا ہے

اندور 29 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں بھوج شالا مندر اور کمال مولا مسجد تنازع کے سلسلے میں مسلم فریق نے دعویٰ کیا ہے کہ سن 1935 میں دھار ریاست کی عدالت نے اس تاریخی مقام کو "مسجد” قرار دیا تھا۔

عدالت میں پیش ہوتے ہوئے سینئر وکیل شوبھا مینن نے اندور بنچ کے جج صاحبان جسٹس وجے کمار شکلا اور جسٹس الوک اوستھی کے سامنے تفصیلی دلائل پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ 24 اگست 1935 کو دھار ریاست کے دربار کی جانب سے جاری کردہ ایک "اعلان” ایک اہم سرکاری دستاویز ہے، جس میں اس مقام کو مسجد قرار دیتے ہوئے نماز کی ادائیگی جاری رکھنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

بھوج شالا، جو ضلع دھار میں واقع ہے، ہندو برادری کے نزدیک دیوی سرسوتی کا مندر ہے، جبکہ مسلم فریق اسے کمال مولا مسجد قرار دیتا ہے۔ یہ متنازعہ مقام آثار قدیمہ کے سروے آف انڈیا کے تحفظ میں ہے۔

وکیل شوبھا مینن نے اس معاملے میں دائر عوامی مفاد کی عرضیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسے وسیع عوامی مفاد کا مسئلہ قرار دینا قانونی طور پر درست نہیں، کیونکہ یہ بنیادی طور پر ایک مخصوص مذہبی برادری سے متعلق معاملہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ مدھیہ پردیش حکومت اور آثار قدیمہ کے سروے آف انڈیا نے ماضی میں مختلف مقدمات کے دوران اس مقام کی مذہبی حیثیت کے بارے میں متضاد مؤقف اختیار کیے، جو قانونی نقطۂ نظر سے ناقابل قبول ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو اس معاملے میں مستقل اور واضح موقف اپنانا چاہیے۔

واضح رہے کہ برطانوی دور میں دھار ایک ریاست تھی جو بھوپال ایجنسی کے تحت آتی تھی۔ ہائی کورٹ اس معاملے میں چار عرضیوں اور ایک رِٹ اپیل پر 6 اپریل سے مسلسل سماعت کر رہی ہے، جس میں اس تاریخی مقام کی مذہبی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button