
گائے کے گوشت کے شبہ پر کارروائی نہیں چلے گی: ہائی کورٹ برہم، یوپی حکومت پر 2 لاکھ روپے کا جرمانہ
گائے کا گوشت ثابت کیے بغیر گاڑی ضبط کرنا غیر قانونی، یوپی حکومت کو 2 لاکھ ہرجانہ ادا کرنے کا حکم
نئی دہلی 30 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش میں گاؤ ذبیحہ سے متعلق قوانین کے استعمال پر ایک اہم اور سخت فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بیف کی سائنسی تصدیق کے بغیر کسی بھی شخص کے خلاف کارروائی کرنا اور اس کی گاڑی ضبط کرنا غیر قانونی ہے۔ عدالت نے ریاستی حکومت کی کارروائی کو منمانی قرار دیتے ہوئے متاثرہ شخص کو 2 لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
یہ معاملہ باغپت کے رہائشی محمد چاند سے جڑا ہے، جن کی گاڑی کو 18 اکتوبر 2024 کو پولیس نے اس شبہ میں ضبط کیا تھا کہ وہ بیف لے جا رہے تھے۔ چیکنگ کے دوران گاڑی سے مشتبہ گوشت برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا اور اسی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا۔ بعد ازاں ضلع مجسٹریٹ نے جون 2025 میں ضبطی کا حکم جاری رکھا، جبکہ ڈویژنل کمشنر نے بھی اس فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے عرضی گزار کی اپیل مسترد کر دی۔
تاہم، محمد چاند نے اس کارروائی کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ سماعت کے دوران عدالت کے سامنے یہ بات آئی کہ ویٹنری ڈاکٹر کی رپورٹ میں گوشت کے بارے میں کوئی قطعی رائے نہیں دی گئی تھی، بلکہ اسے صرف مشتبہ قرار دیا گیا تھا۔ مزید یہ کہ مجاز لیبارٹری سے کسی حتمی جانچ کی رپورٹ بھی ریکارڈ پر موجود نہیں تھی۔
جسٹس سندیپ جین نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اتر پردیش انسداد گاؤ ذبیحہ قانون 1955 کے تحت کارروائی شروع کرنے کے لیے مجاز لیبارٹری کی واضح رپورٹ لازمی ہے۔ جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ برآمد شدہ گوشت واقعی بیف ہے، تب تک گاڑی ضبط کرنا قانون کے دائرے میں نہیں آتا۔ عدالت نے سرکاری افسران کی کارروائی کو غیر قانونی، غیر ضروری اور جلد بازی پر مبنی قرار دیا۔
عدالت نے اس بات کو بھی اہم قرار دیا کہ ضبط کی گئی گاڑی ہی عرضی گزار کی آمدنی کا واحد ذریعہ تھی اور تقریباً 18 ماہ تک گاڑی بند رہنے کی وجہ سے اسے شدید مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ عدالت نے کہا کہ اس طرح کی کارروائی کسی شہری کے بنیادی حقوق اور روزی روٹی پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔
اپنے حکم میں عدالت نے ضلع مجسٹریٹ اور ڈویژنل کمشنر کے فیصلوں کو منسوخ کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ 7 دن کے اندر عرضی گزار کو 2 لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کیے جائیں۔ ساتھ ہی انتظامیہ کو حکم دیا گیا کہ گاڑی کو تین دن کے اندر فوری طور پر رہا کیا جائے۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت چاہے تو ادا کی گئی رقم متعلقہ ذمہ دار افسران سے وصول کر سکتی ہے۔ اس فیصلے کو ریاست میں قانون کے نفاذ کے طریقہ کار پر ایک اہم نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ محض شبہ کی بنیاد پر سخت اقدامات کرنا آئینی اصولوں کے خلاف ہے۔



