سرورققومی خبریں

لکھنؤ کی مسجد اور قبرستان پر نیا تنازعہ، پاسی برادری نے بادشاہ کانس کے قلعے کا دعویٰ کیا

بھوج شالا کے بعد لکھنؤ کی کسمانڈی مسجد پر تنازعہ، پاسی برادری نے شیو مندر اور قلعہ ہونے کا دعویٰ کیا

لکھنؤ 23 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ کے قریب ملیح آباد علاقے میں واقع کسمانڈی مسجد کو لے کر نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ پاسی برادری اور بعض ہندوتوا تنظیموں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ مقام اصل میں مہاراجہ کانس کا قدیم قلعہ تھا جہاں شیو مندر بھی موجود تھا۔

پاسی برادری کے رہنما سورج پاسوان نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو خط لکھ کر مسجد میں نماز پر پابندی عائد کرنے اور مقام کا قبضہ برادری کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات پورے نہ ہوئے تو ایودھیا، کاشی اور متھرا کی طرز پر تحریک چلائی جائے گی۔

برادری نے اپنے دعوے کے حق میں انگریزی گزٹیئر اور مقامی تاریخی حوالوں کا ذکر کیا ہے۔ ان کے مطابق “کسمانڈی” نام راجا کانس سے منسوب ہے، جنہیں گیارہویں صدی میں “راجپاسی” حکمران بتایا گیا ہے۔ دعویٰ کیا گیا کہ راجا کانس کا اثر و رسوخ ملیح آباد اور آس پاس کے علاقوں تک پھیلا ہوا تھا۔

تاریخی حوالوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب سالار مسعود غازی دہلی کی سمت سے اودھ پہنچے تو راجا کانس نے ان کے خلاف جنگ لڑی تھی۔ کسمانڈی اور کاکوری کے علاقوں کو اس تاریخی تصادم کا اہم مرکز قرار دیا گیا ہے۔

سورج پاسوان کا کہنا ہے کہ بعد میں مسلمانوں نے قلعے پر قبضہ کرکے شیو مندر کو مسجد میں تبدیل کردیا۔ ہندو مہاسبھا کے رہنما ششیر چترویدی نے بھی مسجد میں نماز پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب مسلم فریق نے ان دعوؤں کو مسترد کردیا ہے۔ مولانا سفیان نے کہا کہ سرکاری ریکارڈ میں یہ مقام مسجد اور مقبرے کے طور پر درج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ہر مسجد کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہاں پہلے مندر تھا۔ انہوں نے سنبھل اور بھوج شالا تنازعات کی مثال بھی دی۔

ادھر کشیدگی بڑھنے کے بعد انتظامیہ نے مسجد کے اطراف بھاری پولیس فورس تعینات کردی۔ سخت سکیورٹی کے درمیان نماز ادا کی گئی جبکہ علاقے میں حالات پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button