چین میں بیٹھ کر ہندوستانی ڈاکٹر نے حیدر آباد میں کیا روبوٹک آپریشن، 3000 کلومیٹر دور سے کامیاب سرجری
5 جی ٹیکنالوجی کا حیرت انگیز استعمال، مریض چند گھنٹوں میں ڈسچارج
حیدر آباد 25 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)جدید طبی ٹیکنالوجی نے ایک بار پھر حیران کن کامیابی حاصل کرتے ہوئے دنیا کو یہ دکھا دیا کہ فاصلے اب علاج میں رکاوٹ نہیں رہے۔ ڈاکٹر سید محمد غوث نے چین کے شہر ووہان میں موجود رہتے ہوئے تقریباً 3896 کلومیٹر دور حیدر آباد کے ایک مریض کی کامیاب روبوٹک سرجری انجام دی۔
یہ منفرد سرجری 18 مئی کو انجام دی گئی، جب حیدر آباد کے بنجارہ ہلز واقع ایشین انسٹی ٹیوٹ آف نیفرو لوجی اینڈ یورولوجی میں ایک مریض کو آپریشن تھیٹر میں تیار کیا گیا، جبکہ ڈاکٹر سید محمد غوث چین کے ٹونگجی ہاسپیٹل میں موجود تھے۔ مریض لوئر یوریٹرک اسٹرکچر نامی بیماری میں مبتلا تھا، جس کے علاج کے لیے روبوٹک یوریٹرک ری-امپلانٹ سرجری کی گئی۔
ڈاکٹر غوث نے ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ کے ذریعے ووہان سے روبوٹک سسٹم کو حقیقی وقت میں کنٹرول کیا۔ ان کے مطابق روبوٹک سرجری دراصل ٹیلی سرجری کی ایک جدید شکل ہے، جس میں سرجن براہِ راست مریض کے اوپر کھڑے ہو کر آپریشن نہیں کرتا بلکہ ایک کنٹرول کنسول کے ذریعے روبوٹک بازوؤں کو چلاتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ہر روبوٹک سسٹم میں تین بنیادی حصے ہوتے ہیں، جن میں مریض کے ساتھ منسلک پیشنٹ کارٹ، تصویروں کو پروسیس کرنے والا امیج کارٹ اور سرجن کنسول شامل ہے۔ ووہان میں بیٹھ کر وہ اسی کنسول کے ذریعے حیدر آباد میں نصب روبوٹک آلات کو کنٹرول کر رہے تھے، جبکہ حیدر آباد میں مریض کے ساتھ ایک تربیت یافتہ ڈاکٹرس اور معاون طبی عملے نے مریض کو انستھیسیا دینے سمیت آپریشن تھیٹر کی نگرانی کی ذمہ داری سنبھالی۔
سرجری کے دوران دونوں شہروں کی میڈیکل ٹیموں کے درمیان دو طرفہ رابطہ مسلسل جاری رہا۔ ڈاکٹر غوث نے بتایا کہ رابطہ اتنا تیز اور مؤثر تھا کہ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے تمام افراد ایک ہی آپریشن تھیٹر میں موجود ہوں۔ ان کے مطابق روبوٹک سرجری میں اب صرف یہ فرق آیا ہے کہ سرجن اور مریض کے درمیان فاصلہ کئی ہزار کلومیٹر پر محیط ہو گیا ہے۔
یہ سرجری چینی کمپنی MicroPort کے تیار کردہ “میڈبوٹ” روبوٹک پلیٹ فارم کے ذریعے انجام دی گئی۔ ڈاکٹر غوث کے مطابق یہی نظام ہندوستان میں بھی متعارف ہو چکا ہے اور اے آئی این یو اداروں میں دستیاب ہے۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کی ریموٹ روبوٹک سرجری کے لیے مستحکم انٹرنیٹ کنکشن انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ اس عمل کے لیے تقریباً 30 سے 50 ایم بی پی ایس کی رفتار درکار ہوتی ہے تاکہ لائیو ویژول اور روبوٹک کمانڈز میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔ انٹرنیٹ میں ممکنہ رکاوٹ سے متعلق سوال پر ڈاکٹر غوث نے بتایا کہ سسٹم میں بیک اپ کے طور پر دو یا تین الگ لیزڈ لائنز موجود رہتی ہیں، تاکہ ایک لائن بند ہونے کی صورت میں دوسری فوری طور پر کام سنبھال لے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کبھی مکمل رابطہ منقطع ہو جائے تب بھی مریض کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے آپریشن تھیٹر میں موجود سرجیکل اسسٹنٹ فوری طور پر کنٹرول سنبھال سکتا ہے۔
کامیاب سرجری کے بعد مریض کی حالت تیزی سے بہتر ہوئی اور اُسے اسی دن اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا، جبکہ ڈاکٹر سید محمد غوث بعد میں ووہان سے واپس حیدر آباد پہنچ گئے۔



