بین ریاستی خبریںجرائم و حادثاتسرورق

لکھنؤ اجتماعی عصمت دری معاملہ، یو پی ایس سی کی تیاری کرنے والی طالبہ کے ساتھ زیادتی

تین افراد نے اسے اغوا کرکے تین دن تک قید میں رکھا اور مسلسل زیادتی کا نشانہ بنایا۔

نئی دہلی 25 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)دہلی میں یو پی ایس سی امتحان کی تیاری کر رہی ایک نوجوان خاتون کے ساتھ لکھنؤ میں مبینہ اجتماعی عصمت دری کا سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ متاثرہ خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے ایک جاننے والے سمیت تین افراد نے اسے اغوا کرکے تین دن تک قید میں رکھا اور مسلسل زیادتی کا نشانہ بنایا۔

پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون جونپور سے دہلی واپس آ رہی تھی۔ وہ 15 مئی کو سہیل دیو ایکسپریس کے ذریعہ دہلی روانہ ہوئی تھی۔ خاتون کے والد نے اسے جعفرآباد اسٹیشن پر ٹرین میں سوار کرایا تھا۔ راستے میں خاتون نے اپنے جاننے والے شیوم یادو کو واٹس ایپ پر پیغام بھیجا۔ شیوم یادو اپنے دوست شانی یادو کے ساتھ لکھنؤ کے چارباغ اسٹیشن پر اس سے ملنے پہنچا۔

شکایت کے مطابق دونوں افراد نے خاتون کو بات چیت کے بہانے ٹرین سے اتار لیا اور اسے سوشانت گالف سٹی علاقے میں واقع ایک کمرے میں لے گئے۔ وہاں خاتون کو مبینہ طور پر نشہ آور چیز دی گئی، جس کے بعد وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں چلی گئی۔ خاتون نے الزام لگایا کہ شیوم یادو نے اس دوران اس کے ساتھ زبردستی کی۔

متاثرہ کے مطابق اگلے دن شانی یادو بھی کمرے میں آیا اور اس نے بھی اس کے ساتھ زیادتی کی۔ خاتون نے بتایا کہ ملزمان اسے کمرے میں بند رکھتے تھے تاکہ وہ فرار نہ ہو سکے۔ بعد میں ایک تیسرا شخص بھی وہاں پہنچا، جس کی شناخت متاثرہ نہیں کر سکی۔ الزام ہے کہ تینوں افراد نے باری باری اس کے ساتھ عصمت دری کی۔

خاتون نے پولیس کو بتایا کہ تین دن تک اسے قید میں رکھا گیا اور مسلسل ہراساں کیا گیا۔ بعد ازاں ملزمان نے اس کے لیے دہلی کا ٹکٹ بک کرایا اور اسے سہیل دیو ایکسپریس کے ذریعہ روانہ کر دیا۔ ٹرین میں سفر کے دوران خوفزدہ خاتون نے اپنے اہل خانہ کو پوری روداد سنائی۔

اطلاع ملنے پر متاثرہ کے والد نے ریلوے ہیلپ لائن 139 پر رابطہ کیا، جس کے بعد جی آر پی کی ٹیم نے خاتون سے بات کی۔ بعد میں اسے دہلی کے آنند وہار پولیس اسٹیشن لے جایا گیا جہاں اس کے بیان کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا۔

پولیس حکام کے مطابق کیس کو بعد میں لکھنؤ منتقل کر دیا گیا ہے۔ اے ڈی سی پی ساؤتھ نے بتایا کہ پانچ خصوصی ٹیمیں ملزمان کی تلاش میں مختلف علاقوں میں چھاپے مار رہی ہیں۔ ابتدائی جانچ میں معلوم ہوا ہے کہ متاثرہ اور مرکزی ملزم ایک دوسرے کو تقریباً پانچ برس سے جانتے تھے اور دونوں خاندانوں کے درمیان بھی تعلقات تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button