سرورققومی خبریں

دہلی کے جنتر منتر پر سی جے پی کا احتجاج، سکیورٹی سخت

سی جے پی احتجاج: سونم وانگچک سے وزیر تعلیم بننے کا مطالبہ، سیاست میں آنے سے انکار

نئی دہلی 06 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)قومی دارالحکومت نئی دہلی میں ہفتہ کے روز جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج کے آغاز کے ساتھ ہی دہلی پولیس اور نیم فوجی دستوں کو اہم مقامات پر تعینات کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی کے وسیع انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔

سی جے پی کے بانی ابھیجیت ڈپکے امریکہ سے نئی دہلی پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ وہ جنتر منتر پر تمام شرکاء سے ملاقات کے منتظر ہیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس تحریک کو محبت، امن اور جمہوری انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔

اس ہفتے کے آغاز میں ابھیجیت ڈپکے نے اعلان کیا تھا کہ وہ بوسٹن سے بھارت واپس آ کر امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف پرامن احتجاج شروع کریں گے۔ انہوں نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

قومی دارالحکومت نئی دہلی میں سی جے پی کے احتجاج کے دوران طلبہ نے معروف ماہر تعلیم اور سماجی کارکن سونم وانگچک سے ملک کا وزیر تعلیم بننے کا مطالبہ کیا۔ تاہم سونم وانگچک نے واضح کیا کہ ان کا سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سونم وانگچک نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ملک کے نوجوان خود آگے بڑھ کر ذمہ داریاں سنبھالیں اور نظام میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ صرف قیادت بدلنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ نوجوانوں کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔سونم وانگچک نے کہا ہے کہ اگر دھرمیندر پردھان 5 جون تک اپنے عہدے سے مستعفی نہیں ہوتے تو وہ بھی اس احتجاج میں شامل ہوں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ سیاست دانوں اور اعلیٰ سرکاری افسران کے بچے بھی سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کریں۔ ان کے مطابق جب بااثر طبقے کے بچے سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں پڑھیں گے تو تعلیمی نظام کو بہتر بنانے پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔

سونم وانگچک کے بیان کو مظاہرین نے بھرپور حمایت دی اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبات ایک بار پھر احتجاج کا مرکزی موضوع بن گئے۔

احتجاج کے باعث جنتر منتر اور اس کے اطراف کے علاقوں میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ پولیس حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button