قومی خبریں

قانونی رجسٹریشن کے بغیر وقف بورڈ کسی مذہبی ادارے پر حق نہیں جتا سکتا-مدراس ہائی کورٹ

صرف مذہبی شناخت کی بنیاد پر کسی جائیداد کو وقف قرار نہیں دیا جا سکتا۔

نئی دہلی 10 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مدراس ہائی کورٹ نے وقف جائیدادوں سے متعلق ایک اہم اور دور رس اثرات رکھنے والا فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی مسلم مذہبی ادارے کو محض اس کی مذہبی حیثیت کی بنیاد پر وقف بورڈ کی ملکیت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ کسی جائیداد پر وقف بورڈ کا اختیار اسی صورت میں قائم ہوگا جب وہ قانونی طور پر وقف کے نام رجسٹر ہو اور اس سے متعلق تمام ضروری سرکاری کارروائیاں مکمل کی گئی ہوں۔

یہ فیصلہ چنئی کے ٹرپلیکین علاقے میں واقع ایک درگاہ سے متعلق تنازع کی سماعت کے دوران سنایا گیا۔ معاملے میں تمل ناڈو وقف بورڈ نے ایک داخلی قرارداد کے ذریعے درگاہ کو وقف جائیداد قرار دے دیا تھا، جس پر متعلقہ فریق نے عدالت سے رجوع کیا۔

سماعت کے دوران عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ درگاہ وقف ایکٹ کے تحت نہ تو باضابطہ طور پر رجسٹر تھی اور نہ ہی اس کا سرکاری سروے کیا گیا تھا۔ ایسی صورت میں وقف بورڈ محض اپنی قرارداد کی بنیاد پر اس جائیداد پر ملکیتی حق کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

عدالت نے اپنے حکم میں مزید کہا کہ وقف بورڈ کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی بھی جائیداد کو وقف قرار دینے سے قبل قانون میں طے شدہ تمام مراحل مکمل کرے۔ صرف یہ حقیقت کہ کوئی ادارہ درگاہ، مسجد یا دیگر مذہبی مرکز ہے، اسے خود بخود وقف جائیداد نہیں بناتی۔

عدالت کے مطابق ہر ایسے معاملے میں مستند دستاویزات، قانونی اندراج اور سرکاری ریکارڈ کی موجودگی لازمی ہے تاکہ جائیداد کی حیثیت کے بارے میں کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔ بغیر قانونی ثبوت اور رجسٹریشن کے کسی جائیداد کو وقف املاک میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔

قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ مدراس ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ مستقبل میں وقف جائیدادوں سے متعلق تنازعات کے حل میں اہم نظیر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس فیصلے نے یہ اصول واضح کر دیا ہے کہ وقف بورڈ کو کسی بھی جائیداد پر دعویٰ کرنے کے لیے قانونی اور دستاویزی تقاضے پورے کرنا ہوں گے، اور صرف مذہبی شناخت کو ملکیتی حق کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button