2020 دہلی فساد کیس: طاہر حسین کی ضمانت عرضی پر ہائی کورٹ نے دہلی پولیس سے جواب طلب کر لیا
دہلی ہائی کورٹ نے طاہر حسین کی عرضی پر پولیس کو جواب داخل کرنے کی ہدایت
نئی دہلی 10 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)2020 کے شمال مشرقی دہلی فساد سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے عام آدمی پارٹی کے سابق کونسلر طاہر حسین کی ضمانت عرضی پر دہلی پولیس سے جواب طلب کرتے ہوئے معاملے کی آئندہ سماعت 16 جولائی مقرر کی ہے۔
بدھ کے روز سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو ہدایت دی کہ وہ طاہر حسین کی اس درخواست پر اپنا مؤقف پیش کرے جس میں انہوں نے کڑکڑڈوما عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے میں 67 دن کی تاخیر کو معاف کرنے کی استدعا کی ہے۔ طاہر حسین نے جنوری میں نچلی عدالت کی جانب سے ضمانت مسترد کیے جانے کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
یہ معاملہ انسدادِ غیر قانونی سرگرمیاں قانون (یو اے پی اے) کے تحت درج مقدمے سے متعلق ہے، جس میں طاہر حسین سمیت کئی افراد پر 2020 کے دہلی فساد کی مبینہ سازش میں شامل ہونے کے الزامات عائد ہیں۔
دوسری جانب دہلی ہائی کورٹ نے گزشتہ ہفتے اسی معاملے میں الزامات طے کرنے کے عمل پر عائد عبوری روک بھی ختم کر دی تھی۔ جسٹس نینا بنسل کرشنا نے طالبہ کارکن دیوانگنا کلتا کی درخواست مسترد کرتے ہوئے متعلقہ عدالت کو حتمی حکم جاری کرنے کی اجازت دے دی۔
دیوانگنا کلتا نے عدالت سے مطالبہ کیا تھا کہ دہلی پولیس کی جانب سے جمع کیے گئے بعض ویڈیو ریکارڈ اور واٹس ایپ چیٹس انہیں فراہم کیے جائیں تاکہ الزامات طے ہونے سے قبل ان کا جائزہ لیا جا سکے۔ تاہم عدالت نے اس مطالبے کو قبول نہیں کیا۔ البتہ ایک الگ درخواست میں عدالت نے کلتا کو یو اے پی اے مقدمے سے متعلق دستاویزات کا مطالعہ کرنے کی اجازت دے دی۔
دیوانگنا نے 2023 میں دائر اپنی درخواست میں دعویٰ کیا تھا کہ شہریت ترمیمی قانون اور قومی شہری رجسٹر کے خلاف 2020 میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی نگرانی اور ریکارڈنگ کے لیے بعض افراد کو تعینات کیا گیا تھا، لہٰذا ان ریکارڈنگز تک رسائی دفاع کے حق کا حصہ ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اس مقدمے میں دیوانگنا کلتا، نتاشا نروال، صفورا زرگر، طاہر حسین اور دیگر متعدد افراد کے خلاف الگ الگ مقدمات درج ہیں۔ فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں 53 افراد ہلاک جبکہ 700 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد متعدد مقدمات درج کیے گئے تھے اور تحقیقات کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔



