
جائیداد کا مقدمہ جیتنے والے 84 سالہ والد کو بیٹے نے قتل کر دیا
جائیداد کا مقدمہ جیتنے والے 84 سالہ والد کو بیٹے نے قبضہ ملتے ہی قتل کر دیا
ممبئی، 12 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مہاراشٹر کے چھترپتی سمبھاجی نگر (اورنگ آباد) میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں دو سال تک عدالتوں کے چکر کاٹنے والے 84 سالہ شخص کو انصاف ملنے کے چند ہی لمحوں بعد اس کے اپنے بیٹے نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ جائیداد کے تنازع پر باپ اور بیٹے کے درمیان جاری قانونی جنگ ختم ہوئی تو خون کا ایک ایسا باب رقم ہو گیا جس نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔
پولیس کے مطابق مقتول جعفر قمرالدین پٹیل ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم تھے۔ وہ اپنے بیٹے عبدالرحمن پٹیل (45سال)کے ساتھ جائیداد کے تنازع میں گزشتہ تقریباً دو برس سے قانونی لڑائی لڑ رہے تھے۔ عدالت نے حال ہی میں ان کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے مکان کا قبضہ انہیں دینے کا حکم دیا تھا۔
جمعرات کو سب ڈویژنل مجسٹریٹ (ایس ڈی ایم) دفتر کے اہلکاروں اور پولیس کی موجودگی میں عدالتی حکم پر عمل کرتے ہوئے مکان کا قبضہ جعفر قمرالدین پٹیل کے حوالے کر دیا گیا۔ شام تقریباً 6 بج کر 45 منٹ پر کارروائی مکمل ہونے کے بعد وہ اپنی بیٹی کے ساتھ رکشے میں گھر واپس جا رہے تھے۔ شاید انہیں یہ احساس بھی نہ تھا کہ برسوں کی جدوجہد کے بعد حاصل ہونے والی یہ خوشی ان کی زندگی کی آخری خوشی ثابت ہوگی۔
پولیس کے مطابق عبدالرحمن پٹیل نے رکشے میں اپنے والد کا پیچھا کیا اور راستے میں اپنی گاڑی ان کے رکشے کے سامنے کھڑی کر دی۔ اس کے بعد اس نے چاقو نکال کر والد پر پے در پے کئی وار کیے۔ اچانک ہونے والے اس حملے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
والد کی جان بچانے کے لیے دوڑنے والی ان کی بیٹی بھی ملزم کے غصے کا نشانہ بن گئی۔ اس نے اپنی بہن پر بھی حملہ کیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق سڑک پر خون آلود منظر دیکھ کر لوگ سکتے میں آ گئے۔
شدید زخمی جعفر قمرالدین پٹیل کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، مگر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دوران علاج دم توڑ گئے۔ ان کی بیٹی کو گھاٹی اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کے زخموں پر 15 سے 20 ٹانکے لگائے۔ ان کی حالت اب خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
واردات کے بعد عبدالرحمن پٹیل موقع سے فرار ہو گیا۔ ستارہ پولیس اسٹیشن کی ٹیم نے فوری طور پر اس کی تلاش شروع کر دی۔ پولیس کے مطابق رات تقریباً 9 بجے اسے مٹمیتا علاقے میں ایک رشتہ دار کے گھر سے حراست میں لیا گیا۔ ابتدائی جانچ میں معلوم ہوا کہ اس نے نیند کی گولیاں کھا لی تھیں، جس کے بعد اسے علاج کے لیے ویلی اسپتال منتقل کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول ابرار کالونی میں رہتے تھے جبکہ ملزم سلک مل کالونی میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ مقیم تھا۔ کرائم برانچ کے انسپکٹر گجانن کلیانکر کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جائیداد کا قبضہ والد کے حوالے کیے جانے پر ملزم شدید برہم تھا اور اسی رنجش میں اس نے یہ خونریز قدم اٹھایا۔
پولیس کمشنر پروین پوار نے اسپتال اور جائے وقوعہ کا دورہ کیا، جبکہ پولیس قتل کے اس سنسنی خیز معاملے کے تمام پہلوؤں کی تفصیلی جانچ کر رہی ہے۔۔



