کولکاتا کے مسلم اکثریتی بوتھ میں بی جے پی کی کامیابی پر سوالات برقرار
بنگال کے مسلم اکثریتی بوتھ میں بی جے پی کو 97 فیصد ووٹ،سی پی آئی (ایم) کو صرف ایک ووٹ
کولکاتا 11 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکاتا کے راجا رہٹ نیو ٹاؤن اسمبلی حلقے میں ایک مسلم اکثریتی بوتھ پر بی جے پی امیدوار کی بھاری کامیابی کے بعد انتخابی نتائج کو لے کر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ مقامی باشندوں، اپوزیشن جماعتوں اور متعدد ووٹروں نے نتائج پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اعداد و شمار علاقے کی سیاسی حقیقت سے میل نہیں کھاتے۔
متنازع بوتھ 164 میں سی پی آئی (ایم) اور آل انڈیا سیکولر فرنٹ اتحاد کے امیدوار سپتارشی دیب کو صرف ایک ووٹ ملا، جبکہ ترنمول کانگریس کے امیدوار تاپش چٹرجی کو پانچ ووٹ حاصل ہوئے۔ اس کے برعکس بی جے پی امیدوار پیوش کنوڈیا نے 656 میں سے 637 ووٹ حاصل کر لیے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی علاقے کے پڑوسی بوتھ 165 میں نتائج بالکل مختلف رہے۔ وہاں بی جے پی امیدوار کو صرف 32 ووٹ ملے جبکہ سپتارشی دیب کو 299 اور تاپش چٹرجی کو 290 ووٹ حاصل ہوئے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ دونوں بوتھوں میں ایک ہی محلے کے ووٹر شامل تھے اور بعض خاندانوں کے افراد مختلف بوتھوں میں تقسیم تھے۔
مقامی باشندوں کے مطابق بوتھ 164 واقع مسلم اکثریتی علاقے میں تقریباً 88 فیصد ووٹر مسلمان ہیں۔ ایسے میں بی جے پی کو تقریباً 97 فیصد ووٹ ملنے پر حیرت اور شکوک کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اس حلقے کے نتائج ابتدا ہی سے تنازع کا شکار رہے۔ دیگر حلقوں کے برعکس یہاں نتائج ایک دن تاخیر سے جاری کیے گئے۔ ووٹوں کی گنتی کے دوران 17 کے بجائے 18 دور مکمل کیے گئے جس پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
رپورٹوں کے مطابق پولنگ کے دن بوتھ 164 کی الیکٹرانک ووٹنگ مشین میں ڈالے گئے ووٹوں سے 52 زائد ووٹ ظاہر ہوئے تھے۔ اس کے بعد تقریباً دو گھنٹے تک پولنگ متاثر رہی اور مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے تحریری طور پر کاغذی پرچیوں کی گنتی کا مطالبہ کیا تھا۔
سی پی آئی (ایم) کے مقامی رہنما احمد علی منڈل نے کہا کہ ان کے آٹھ افراد پر مشتمل خاندان نے اتحاد کے امیدوار کو ووٹ دیا تھا، لیکن نتائج میں امیدوار کو صرف ایک ووٹ ملا۔ ان کے مطابق یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ باقی ووٹ کہاں گئے۔
ووٹوں کی گنتی کے ابتدائی 17 ادوار تک ترنمول کانگریس کے امیدوار آگے تھے، لیکن آخری مرحلے کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی اور بی جے پی امیدوار 316 ووٹوں کی برتری کے ساتھ کامیاب قرار دیے گئے۔ اسی تبدیلی نے تنازع کو مزید بڑھا دیا۔
اتحاد کے امیدوار سپتارشی دیب نے دعویٰ کیا کہ آخری مرحلے میں گنتی کے عمل کے دوران کئی بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دوبارہ گنتی کے دوران انہیں مرکز میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ بی جے پی امیدوار کے وہاں موجود ہونے کا شبہ تھا۔
دوسری جانب بی جے پی امیدوار پیوش کنوڈیا نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مخالفین بے بنیاد دعوے کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی انکار کیا کہ وہ گنتی کے مرکز میں موجود تھے۔
مقامی باشندوں اور اپوزیشن جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ پورے معاملے کی شفاف جانچ کرائی جائے تاکہ ووٹروں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کا جواب دیا جا سکے۔



