بین ریاستی خبریں

وارانسی:گوشت و مچھلی کی دکانیں شہر سے باہر منتقل کرنے کا فیصلہ، تاجروں اور صارفین کا اعتراض

وارانسی میں گوشت و مچھلی کی دکانوں کی منتقلی پر تنازع، تاجروں نے فیصلے کو روزگار کے لیے خطرہ قرار دیا

نئی دہلی 09 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اتر پردیش کے وارانسی میں میونسپل کارپوریشن کی جانب سے شہر کے اندر قائم گوشت اور مچھلی کی دکانوں کو مرحلہ وار طریقے سے شہر کی حدود سے باہر منتقل کرنے کے فیصلے پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ گوشت تاجروں اور مقامی باشندوں نے اس اقدام پر شدید اعتراض ظاہر کرتے ہوئے اسے روزگار کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

گوشت کے کاروبار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان کئی نسلوں سے اس پیشے سے وابستہ ہیں اور ان کے پاس آمدنی کا کوئی دوسرا ذریعہ موجود نہیں۔ تاجروں کے مطابق اگر دکانوں کو شہر سے باہر منتقل کیا گیا تو ان کے کاروبار اور آمدنی پر برا اثر پڑے گا، جس کے آثار ابھی سے نمایاں ہونے لگے ہیں۔

متاثرہ تاجروں نے دعویٰ کیا کہ ان کے نصف سے زیادہ گاہک ہندو برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ بھی دکانوں کی منتقلی کے فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔ مقامی مسلمانوں نے بھی میونسپل کارپوریشن کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس سے چھوٹے کاروباری متاثر ہوں گے جبکہ بڑی تجارتی کمپنیوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

کچھ مقامی افراد نے خدشہ ظاہر کیا کہ دکانوں کی منتقلی کے بعد نگرانی اور چیکنگ کے نام پر تاجروں اور خریداروں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔

دوسری جانب وارانسی میونسپل کارپوریشن کا کہنا ہے کہ شہر کی مذہبی، ثقافتی اور شہری ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے گوشت اور مچھلی کے کاروبار کو منظم انداز میں شہر کے بیرونی علاقوں میں منتقل کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ اس تجویز پر میداگن کے ٹاؤن ہال میں میئر اشوک کمار تیواری کی صدارت میں منعقد اجلاس میں تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس کے دوران شہری ترقی، تجاوزات کے خاتمے، صفائی نظام اور عوامی سہولیات سے متعلق مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا، جن میں گوشت اور مچھلی کی مارکیٹوں کی منتقلی کا معاملہ بھی شامل تھا۔

سٹی کمشنر ناگ پال نے اجلاس کو بتایا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے کے لیے پانچ مقامات کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔ ان میں رام نگر، سوج آباد، گنیش پور، اولیش پور اور شیوپور شامل ہیں۔ حکام کے مطابق یہ تمام علاقے شہر کی حدود سے باہر واقع ہیں اور وہاں منتقل ہونے کے بعد بھی شہریوں کو خریداری میں کسی بڑی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

تاہم تاجروں اور مقامی افراد کی جانب سے مخالفت کے بعد یہ معاملہ اب عوامی اور سیاسی بحث کا موضوع بنتا جا رہا ہے، جبکہ متاثرہ فریقین حکومت سے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button