تلنگانہ کی خبریںسرورق

حیدرآباد: مسلم نوجوان کو ’پاکستانی‘ کہنے والے جناپریہ سوسائٹی کے سیکریٹری کی غیر مشروط معافی

واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سیکریٹری نے غیر مشروط معافی کا اعلان کیا۔

حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) شہر کے مضافاتی علاقے کپرا میں واقع جناپریہ لیک فرنٹ سوسائٹی کے سیکریٹری نے ایک مسلم نوجوان کو ’پاکستانی‘ کہنے کے معاملے پر غیر مشروط معافی مانگ لی ہے۔ سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اس واقعے نے بڑے پیمانے پر بحث چھیڑ دی تھی اور مختلف سیاسی جماعتوں نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔

سوسائٹی کے منیجنگ کمیٹی سیکریٹری نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کے الفاظ سے جن لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے، وہ ان سب سے معذرت خواہ ہیں۔ انہوں نے نوجوان سے بھی براہ راست معافی مانگتے ہوئے کہا کہ یہ الفاظ جان بوجھ کر استعمال نہیں کیے گئے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ مسلم برادری کا احترام کرتے ہیں اور ان کے بیشتر کرایہ دار مسلمان ہیں۔ ان کے مطابق ان کا مقصد کسی مذہبی یا سماجی طبقے کی توہین کرنا نہیں تھا۔

یہ تنازع 19 جون کو اس وقت شروع ہوا جب ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں سوسائٹی کے سیکریٹری ایک مسلم نوجوان کو مبینہ طور پر ’پاکستانی‘ کہتے ہوئے نظر آئے۔ یہ بحث ایک غیر رجسٹرڈ کرایہ دار کے معاملے پر شروع ہوئی تھی، جس کے دوران پولیس اہلکار بھی موقع پر موجود تھے۔

ویڈیو میں نوجوان کو سخت ردعمل دیتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ اس نے کہا کہ اس کے دادا بھارتی فوج میں صوبیدار کے عہدے پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور اسے پاکستانی کہنا ناقابل قبول ہے۔ نوجوان نے غصے میں جواب دیتے ہوئے کہا، ’’مجھے پاکستانی مت کہو، میں ایک بھارتی شہری ہوں۔‘‘

ایک اور ویڈیو میں نوجوان نے الزام لگایا کہ سیکریٹری نے ان پر پاکستان سے تعلق رکھنے اور بم نصب کرنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے۔ نوجوان نے کہا کہ پولیس کی موجودگی کے باوجود اس معاملے میں فوری کارروائی نہیں کی گئی۔

اس واقعے کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں نے شدید ناراضی کا اظہار کیا۔ مجلس بچاؤ تحریک (ایم بی ٹی)، تلنگانہ رکشنا سمیتی اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے سیکریٹری کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

حیدرآباد کو ہمیشہ مختلف مذاہب اور برادریوں کے درمیان ہم آہنگی اور بھائی چارے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں اس واقعے نے شہر میں مذہبی رواداری اور سماجی ہم آہنگی کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button