ایران کے جوہری مراکز کا جلد معائنہ ہوگا، IAEA سربراہ رافیل گروسی کا اہم اشارہ
ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی نگرانی تیز، معائنے جلد شروع ہونے کا امکان
ویانا/ٹوکیو، 24 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل ماریانو گروسی نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم جلد ایران کے یورینیم افزودگی کے مراکز کا معائنہ کرے گی۔ یہ اقدام امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے عبوری معاہدے کا ایک اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے اور اس معاملے پر گروسی کا اب تک کا سب سے واضح بیان قرار دیا جا رہا ہے۔
جاپان کے فوکوشیما دائیچی جوہری بجلی گھر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے گروسی نے کہا کہ سیاسی بیانات اپنی جگہ اہم ہوتے ہیں، لیکن امریکہ اور ایران کے صدور کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی دستاویز میں واضح طور پر درج ہے کہ جوہری تنصیبات اور ان سے متعلق سرگرمیوں کی نگرانی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ معائنہ دو دن بعد ہو، ایک ہفتے بعد یا دس دن بعد، اہم بات یہ ہے کہ یہ عمل ضرور انجام پائے گا۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس اسرائیل اور ایران کے درمیان بارہ روزہ جنگ کے دوران ایران کی متعدد جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ بعد ازاں امریکہ نے بھی فردو، نتنز اور اصفہان میں واقع جوہری مراکز پر حملے کیے تھے۔ ان حملوں کے بعد ایران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کو ان مقامات تک رسائی دینے سے روک دیا تھا۔
ماہرین کے مطابق ایران کے پاس بڑی مقدار میں بلند درجے تک افزودہ یورینیم موجود ہے، جو نظری طور پر تقریباً دس جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے۔ تاہم ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔
23 جون کو امریکہ اور ایران نے جوہری معائنوں کے معاملے پر ایک دوسرے سے مختلف دعوے کیے تھے۔ امریکہ کا کہنا تھا کہ ایران نے معائنہ کاروں کو جوہری مراکز تک رسائی دینے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، جبکہ تہران نے اس دعوے کی تردید کی تھی۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل باغی نے منگل کے روز کہا تھا کہ گزشتہ سال حملوں کا نشانہ بننے والی جوہری تنصیبات کے معائنے کا فی الحال کوئی منصوبہ موجود نہیں ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ افزودگی کے مراکز تک رسائی نہ ہونے کے باعث ایران کے یورینیم کے ذخائر اور افزودگی کے لیے استعمال ہونے والی مشینوں کی موجودہ حالت کی تصدیق ممکن نہیں۔
اگرچہ ایران اور ایجنسی دونوں کا کہنا ہے کہ اس وقت یورینیم کی افزودگی کا عمل جاری نہیں، تاہم جوہری امور کے ماہرین کو خدشہ ہے کہ ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر کسی خفیہ مقام پر منتقل کر سکتا ہے، جس سے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔



