بین ریاستی خبریںجرائم و حادثاتسرورق

سالگرہ سے ایک دن پہلے منگیتر کا قتل؟ 14 کروڑ کی شادی سے قبل پونے کے کاروباری نوجوان کی موت کا معمہ حل

محبت، دھوکا اور قتل:منگیتر نے عاشق کے ساتھ مل کر قتل کی سازش رچی: پولیس

پونے 24 جون :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مہاراشٹر کے شہر پونے سے سامنے آنے والے ایک ہائی پروفائل قتل کیس نے پورے ملک کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ چند ماہ بعد شادی کے بندھن میں بندھنے والے نوجوان کاروباری شخصیت کیتن اگروال کی موت کو ابتدا میں ایک افسوسناک حادثہ سمجھا گیا، لیکن پولیس تحقیقات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ معاملہ محبت، دھوکے، سازش اور قتل کی ایک سنسنی خیز کہانی بن گیا۔

کیتن اگروال کی موت کے بعد ان کی منگیتر سیا گوئل نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک جذباتی پیغام شیئر کیا تھا جس میں لکھا تھا، "تم مجھے میری سالگرہ پر چھوڑ گئے، واپس آ جاؤ۔” اس پوسٹ نے سوشل میڈیا صارفین کو جذباتی کر دیا اور بیشتر لوگوں نے اسے ایک غمزدہ منگیتر کا درد سمجھا، تاہم چند روز بعد پولیس کی تحقیقات نے اس پورے واقعے کو ایک نئے زاویے سے پیش کر دیا۔

پولیس کے مطابق 18 جون کو لوہا گڑھ قلعے پر پیش آنے والا واقعہ محض ایک حادثہ نہیں تھا بلکہ ایک مبینہ منصوبہ بند قتل تھا۔ تفتیشی حکام کا دعویٰ ہے کہ سیا گوئل نے اپنے مبینہ عاشق چیتن چودھری کے ساتھ مل کر کیتن اگروال کو راستے سے ہٹانے کی سازش تیار کی تھی۔ تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے شواہد کے مطابق دونوں ملزمان نے قتل کو حادثاتی موت کا رنگ دینے کی کوشش کی تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔

لوناؤلہ دیہی پولیس کے تفتیشی افسر دنیش تیاڈے کے مطابق ابتدائی تفتیش میں ہی بعض تضادات سامنے آگئے تھے۔ پولیس نے جب واقعے کے حالات، موبائل فون ریکارڈز اور دونوں ملزمان کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا تو شک مزید گہرا ہوتا گیا۔ بعد ازاں تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا گیا اور پولیس اس نتیجے پر پہنچی کہ کیتن کی موت حادثاتی نہیں بلکہ مبینہ طور پر قتل کا نتیجہ تھی۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ سیا گوئل نے کیتن اگروال کو لوہا گڑھ قلعے پر آنے کے لیے آمادہ کیا جبکہ چیتن چودھری پہلے ہی وہاں موجود تھا۔ تفتیش کاروں کے مطابق دونوں نے مل کر کیتن کو ایک گہری کھائی میں دھکا دیا اور بعد میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ تصاویر بناتے ہوئے پھسل کر گر گیا تھا۔

تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ قتل کا منصوبہ اچانک نہیں بنایا گیا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق 31 مئی کو سیا گوئل اور کیتن اگروال پہلی بار لوہا گڑھ قلعے پر ٹریکنگ کے لیے گئے تھے۔ تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ اسی دوران سیا کے ذہن میں کیتن کو راستے سے ہٹانے کا منصوبہ آیا۔

اس کے بعد 14 جون کو دونوں دوبارہ قلعے پر گئے۔ پولیس کے مطابق اس مرتبہ فوٹو شوٹ کا بہانہ بنایا گیا۔ تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس دوران سیا نے سانپ نظر آنے کا شور مچایا اور کیتن کو کھائی کی جانب لے جانے کی کوشش کی، تاہم منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا۔

پولیس کے مطابق 18 جون کو، جو سیا گوئل کی سالگرہ سے ایک دن پہلے تھا، اس نے ایک بار پھر لوہا گڑھ قلعے جانے پر اصرار کیا۔ اسی دوران مبینہ طور پر چیتن چودھری کی مدد سے کیتن اگروال کو کھائی میں دھکا دے دیا گیا۔ بعد میں سیا نے پولیس کو بتایا کہ کیتن تصاویر بناتے ہوئے پھسل کر گر گیا تھا، لیکن تفتیش کے دوران اس بیان پر کئی سوالات اٹھے۔

یہ کیس اس لیے بھی زیادہ توجہ کا مرکز بن گیا کیونکہ دونوں خاندان شادی کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ 20 سالہ سیا گوئل پونے کے ایک معروف کاروباری خاندان سے تعلق رکھتی ہے جبکہ 26 سالہ کیتن اگروال رئیل اسٹیٹ کمپنی "سکسیس گروپ” کے ڈائریکر تھے۔ دونوں کی منگنی رواں سال فروری میں ہوئی تھی اور نومبر میں راجستھان کے شہر اودے پور میں شاندار شادی طے تھی۔

رپورٹس کے مطابق شادی کی تقریبات کے لیے لگژری ہوٹل پہلے ہی بک کیے جا چکے تھے اور خاندان تقریباً 14 کروڑ روپے خرچ کرنے کا منصوبہ بنا چکا تھا۔ صرف سیا گوئل کی 20ویں سالگرہ کے لیے بھی کیتن اگروال نے مہابلیشور کے ایک بڑے ریزورٹ میں 40 سے 50 کمرے بک کروائے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ گزشتہ ایک ماہ سے سالگرہ کی تقریبات کی تیاریوں میں مصروف تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ سیا گوئل اور چیتن چودھری کے درمیان گزشتہ تقریباً ایک سال سے تعلقات تھے۔ دونوں خاندان پونے میں کاروباری روابط رکھتے تھے اور اسی دوران ان کی قربت بڑھی۔ تفتیش کاروں کا دعویٰ ہے کہ سیا کیتن سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی اور اپنے مبینہ تعلقات کو جاری رکھنا چاہتی تھی، جس کے باعث اس نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔

کیتن اگروال کے والد وشال اگروال نے اپنے بیٹے کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "میرے 26 سالہ بیٹے کا انتقال ہو گیا ہے اور یہ غم سمندر سے بھی بڑا ہے۔ میرا بیٹا میرے بڑھاپے کا سہارا تھا۔ وہی میری چتا کو آگ دینے والا تھا، لیکن آج وہ خود دنیا سے چلا گیا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ کیتن ایک ذہین اور محنتی نوجوان تھا جس نے امریکہ سے ایم بی اے مکمل کیا تھا اور واپس آ کر خاندانی کاروبار میں ان کا ہاتھ بٹا رہا تھا۔ وشال اگروال کے مطابق ان کے بیٹے نے کئی مرتبہ سیا کے رویے پر خدشات کا اظہار کیا تھا، لیکن خاندان نے ان باتوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔

پولیس نے سیا گوئل اور چیتن چودھری کے خلاف قتل اور مجرمانہ سازش کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ دونوں ملزمان کو گرفتار کرکے سات روزہ پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے جبکہ تفتیشی حکام مزید شواہد جمع کر رہے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ پولیس لوہا گڑھ قلعے پر واقعے کی دوبارہ منظر کشی بھی کر سکتی ہے تاکہ قتل کے مبینہ منصوبے کی تمام کڑیاں جوڑی جا سکیں۔

شادی کی تیاریاں، سالگرہ کی خوشیاں، سوشل میڈیا پر محبت بھرے پیغامات اور پھر اچانک سامنے آنے والے قتل کے الزامات نے اس کیس کو ملک کے سب سے زیادہ زیر بحث جرائم میں شامل کر دیا ہے۔ اب سب کی نظریں پولیس تحقیقات اور عدالت میں پیش ہونے والے شواہد پر مرکوز ہیں، جو اس پراسرار اور سنسنی خیز کیس کی اصل حقیقت سامنے لائیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button