مدھیہ پردیش کے سرکاری اسپتال میں مبینہ غفلت، معصوم بچہ ہمیشہ کے لیے بینائی سے محروم
مبینہ طبی لاپرواہی سے 19 ماہ کا بچہ نابینا، تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل
ساگر/مدھیہ پردیش :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ساگر ضلع کے باندہ سرکاری اسپتال سے مبینہ طبی غفلت کا ایک انتہائی افسوسناک اور چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں علاج کے دوران 19 ماہ کا ایک بچہ اپنی دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوگیا۔ اہل خانہ نے اسپتال کے ایک سرکاری ڈاکٹر پر سنگین لاپرواہی کا الزام عائد کرتے ہوئے پولیس میں شکایت درج کرادی ہے، جبکہ محکمہ صحت نے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
متاثرہ بچے کے والد اندراج وشوکرما کے مطابق وہ اپنے 17 ماہ کے بیٹے ونئے وشوکرما کو نزلہ، زکام اور آنکھوں میں سرخی کی شکایت کے باعث باندہ سرکاری اسپتال لے گئے تھے۔ ان کا الزام ہے کہ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے بچے کا معائنہ کرنے کے بعد اسے آئی ڈراپس، پیراسیٹامول سیرپ، انجکشن اور دیگر ادویات تجویز کیں۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ علاج کے چند گھنٹوں کے اندر ہی بچے کی حالت تیزی سے بگڑنے لگی۔ جب مقامی اسپتال میں اس کی طبیعت میں کوئی بہتری نہیں آئی تو ڈاکٹروں نے اسے ضلع اسپتال ساگر ریفر کر دیا۔ وہاں بھی حالت تشویشناک ہونے کے باعث بچے کو مزید علاج کے لیے بھوپال کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) منتقل کر دیا گیا۔
متاثرہ خاندان کا دعویٰ ہے کہ ایمس بھوپال میں معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچے کی دونوں آنکھوں کی بینائی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور وہ اب مستقل طور پر نابینا ہو گیا ہے۔ والد اندراج وشوکرما نے الزام لگایا کہ یہ سانحہ غلط علاج اور طبی لاپرواہی کے باعث پیش آیا۔
انہوں نے بانڈہ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کراتے ہوئے ذمہ دار ڈاکٹر اور اسپتال کے عملے کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ڈاکٹر کا نام نہیں جانتے، تاہم سامنے آنے پر اسے پہچان سکتے ہیں۔
اس معاملے پر باندہ کے بلاک میڈیکل آفیسر ڈاکٹر یوگیندر کھٹک نے بتایا کہ چیف میڈیکل اینڈ ہیلتھ آفیسر (سی ایم ایچ او) نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ ان کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد حقائق کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔
ادھر بچے کے اہل خانہ شدید صدمے میں ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ اگر طبی غفلت ثابت ہوتی ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔



