ایران کے 6 ارب ڈالر جلد جاری ہوں گے، پابندیوں میں نرمی ایرانی عوام کی بڑی فتح: صدر مسعود پیزشکیان
ایران کے 6 ارب ڈالر جلد جاری ہوں گے، پابندیوں میں نرمی سے معیشت کو ریلیف ملے گا: صدر پیزشکیان
تہران:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے پیر کے روز ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر میں منجمد ایران کے 12 ارب ڈالر کے فنڈز میں سے 6 ارب ڈالر جلد جاری کر دیے جائیں گے، جبکہ باقی رقم کی واپسی کے لیے بھی حکومت مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق صدر پیزشکیان نے مقدس شہر قم میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تیل اور پیٹرو کیمیکل کے شعبوں پر عائد پابندیوں میں نرمی سے ملکی معیشت کو بڑا ریلیف ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ امن معاہدے کے تحت ایران کے تیل اور پیٹرو کیمیکل سیکٹر پر سے پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ ایرانی عوام کی "بڑی فتح” ہے اور اس سے اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔
قم کے دورے کے دوران آیت اللہ شبیر زنجانی سے ملاقات کے بعد صدر پیزشکیان نے بتایا کہ قطر میں رکھے گئے کل 12 ارب ڈالر میں سے پہلے مرحلے میں 6 ارب ڈالر جاری کیے جائیں گے، جبکہ باقی 6 ارب ڈالر کی واپسی کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
صدر کے مطابق یہ معاہدہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات اور اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت ممکن ہوئی ہے۔
صدر پیزشکیان نے حالیہ تنازع کے دوران ایرانی عوام کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا، لیکن عوام، مسلح افواج اور حکومت متحد رہے اور قومی سلامتی کا بھرپور دفاع کیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکہ اور اسرائیل نے اقتصادی دباؤ کے ذریعے ایران کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی، تاہم ایرانی عوام کے صبر اور استقامت کے باعث یہ کوششیں ناکام رہیں۔
ایرانی صدر نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا اور ملک کا جوہری پروگرام صرف قومی ضروریات اور اعلان کردہ پالیسیوں کے مطابق جاری رہے گا۔حکومت نے حالیہ تنازعات کے بعد تعمیر نو کے اقدامات شروع کر دیے ہیں اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فوڈ سبسڈی سمیت اضافی مالی امدادی اسکیمیں بھی متعارف کرائی جا رہی ہیں۔



