سرورققومی خبریں

سیا نے شادی کی خریداری کے نام پر کیتن سے ایک کروڑ روپے لیے، رقم مبینہ عاشق کو دے دی: پولیس ذرائع

پولیس کا دعویٰ، منگیتر سیا گوئل نے شادی کی تیاریوں کے نام پر کیتن اگروال سے ایک کروڑ روپے لیے اور مبینہ عاشق چیتن چودھری کے ساتھ مل کر قتل کی سازش تیار کی۔

پونے:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) پونے کے 26 سالہ رئیل اسٹیٹ کاروباری شخص کیتن اگروال کے قتل کیس میں روزانہ نئے انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق مقتول کی منگیتر سیا گوئل نے شادی کی تیاریوں اور خریداری کے نام پر کیتن سے تقریباً ایک کروڑ روپے حاصل کیے اور بعد میں یہ پوری رقم اپنے مبینہ عاشق چیتن چودھری کو دے دی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ 20 سالہ سیا گوئل اور 22 سالہ چیتن چودھری نے قتل کی سازش کافی پہلے سے تیار کر رکھی تھی اور واردات کے بعد خود کو شک و شبہ سے بچانے کے لیے طویل مدتی منصوبہ بھی بنایا تھا۔ دونوں کو 18 جون کو لوہاگڑھ قلعہ پر کیتن اگروال کو کھائی میں دھکا دے کر قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

تحقیقات کے مطابق سیا نے کیتن سے شادی کی خریداری اور دیگر اخراجات کے لیے تقریباً ایک کروڑ روپے مانگے تھے، لیکن یہ رقم شادی کی تیاریوں پر خرچ کرنے کے بجائے چیتن کو اس کا کیریئر بنانے اور مالی حالت بہتر کرنے کے لیے دے دی گئی۔

پولیس کے مطابق چیتن نسبتاً کمزور مالی پس منظر سے تعلق رکھتا تھا اور اس نے سیا سے کہا تھا کہ اسے مالی طور پر مستحکم ہونے کے لیے تقریباً تین سال درکار ہوں گے۔ اسی لیے دونوں نے مبینہ طور پر طے کیا تھا کہ کیتن کی موت کے بعد سیا تین سال تک شادی نہیں کرے گی تاکہ کسی کو ان پر شک نہ ہو۔ بعد میں حالات معمول پر آنے پر دونوں شادی کر لیں گے۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ قتل سے قبل دونوں کے درمیان ایک خفیہ اشارہ طے کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق سیا کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ پانی پینے یا جوتے کا تسمہ باندھنے کے بہانے بیٹھ جائے، جو چیتن کے لیے اشارہ تھا کہ کیتن کو کھائی میں دھکا دینے کا وقت آ گیا ہے۔

کال ڈیٹیل ریکارڈ (CDR) سے بھی اہم شواہد ملے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق واردات سے تقریباً 34 منٹ پہلے سیا اور چیتن کے درمیان فون پر بات ہوئی تھی، جسے تفتیش کار قتل سے پہلے کی آخری منصوبہ بندی قرار دے رہے ہیں۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ قتل کی سازش مئی کے آخر تک تیار ہو چکی تھی اور 14 جون کو کیتن کو قتل کرنے کی پہلی کوشش بھی کی گئی تھی۔ اس وقت کیتن مبینہ طور پر جھاڑیوں کو پکڑ کر اپنی جان بچانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ بعد میں سیا نے اس واقعے کو حادثہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ سانپ دیکھ کر گھبراہٹ میں اس سے دھکا لگ گیا تھا۔

پہلی کوشش ناکام ہونے کے بعد چیتن نے منصوبہ تبدیل کیا اور 18 جون کو مبینہ طور پر جوڑے کا پیچھا کرتے ہوئے لوہاگڑھ قلعہ پہنچا تاکہ اس بار کیتن بچ نہ سکے۔

اس کیس میں اس ڈرائیور کا بیان بھی سامنے آیا ہے جسے جوڑے کو شادی سے قبل بالی کے سفر کے لیے ممبئی ایئرپورٹ لے جانے کے لیے بک کیا گیا تھا۔ ڈرائیور ویبھو جادھو کے مطابق سیا سفر پر جانے کے لیے تیار نہیں تھی اور اس کے بھائی ساحل نے اسے زبردستی گاڑی میں بٹھایا تھا۔ بعد میں کیتن اور اس کے اہل خانہ بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے، لیکن ممبئی ایئرپورٹ پہنچنے پر کیتن کو معلوم ہوا کہ اس کا پاسپورٹ غائب ہے، جس کے بعد بالی کا سفر منسوخ کر دیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button