بین الاقوامی خبریںسرورق

 پاکستانی فضائی حملوں میں 36 افغان شہری ہلاک، 163 زخمی، طالبان نے حملوں کو ‘بزدلانہ جارحیت’ قرار دے دیا

خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک و زخمی؛ طالبان اور سابق امریکی سفیر زلمے خلیل زاد کی شدید مذمت

کابل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) افغانستان کے مشرقی صوبوں پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں پاکستانی فوج کے مبینہ فضائی حملوں میں کم از کم 36 شہری جاں بحق اور 163 دیگر زخمی ہوگئے۔ طالبان کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت نے پیر کو ان ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد بے گناہ شہری متاثر ہوئے ہیں۔

طالبان حکام کے مطابق اتوار کی شب پکتیکا کے گیان ضلع، پکتیا کے تسمکنی ضلع اور کنڑ کے منوگئی ضلع میں کئی رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں تین مکانات مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔

حمداللہ فطرت نے بتایا کہ تسمکنی ضلع کے مندوخیل گاؤں میں ایک گھر پر بمباری سے ایک معمر شخص اور ایک بچہ جاں بحق ہوگئے، جبکہ کئی افراد زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق جب مقامی افراد امدادی کارروائی کے لیے جمع ہوئے تو علاقے پر دوبارہ بمباری کی گئی، جس سے مزید 28 افراد ہلاک اور 158 زخمی ہوگئے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پکتیکا کے ولست گاؤں میں ایک اور حملے میں چھ افراد جان سے گئے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی۔ کنڑ کے بارولو گاؤں میں بھی فضائی حملے سے رہائشی املاک کو شدید نقصان پہنچا۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک مرتبہ پھر افغان شہری علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے ان حملوں کو ’’بزدلانہ جارحیت‘‘ اور ’’انسانیت کے خلاف جرم‘‘ قرار دیا۔

دوسری جانب افغانستان میں امریکہ کے سابق سفیر زلمے خلیل زاد نے بھی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مذاکرات کے بجائے بار بار فوجی کارروائیوں کا راستہ اختیار کر رہا ہے، جس سے خطے میں عدم استحکام اور شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں بھی افغانستان نے پاکستانی فضائی حملوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کابل میں پاکستان کے ناظم الامور کو طلب کیا تھا۔ اس سے قبل 9 جون کو ہونے والے حملوں میں بھی 13 افغان شہری ہلاک اور 14 زخمی ہوئے تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button