قومی خبریں

دہلی کے ساگرپور میں محرم کے بعد فرقہ وارانہ کشیدگی، پاکستانی پرچم کے تنازع پر ہنگامہ

، پولیس نے حالات کو پرامن قرار دے دیا۔

 نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) دہلی کے ساگرپور علاقے میں محرم کے دوران مبینہ ’’پاکستانی پرچم‘‘ کے تنازع کے بعد فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہو گئی۔ اطلاعات کے مطابق محرم کے روز ایک بچے کی جانب سے جھنڈا لہرانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس کے بعد بجرنگ دل اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کارکنوں نے دعویٰ کیا کہ یہ پاکستانی پرچم تھا۔

تاہم دہلی پولیس نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ علاقے میں کوئی پاکستانی پرچم نہیں لہرایا گیا تھا۔ اس کے باوجود محرم گزرنے کے چند دن بعد، 30 جون کو بجرنگ دل اور بی جے پی سے وابستہ کارکنوں نے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر علاقے کے ایک پارک میں ہنومان چالیسا کا اجتماعی پاٹھ کیا، جسے انہوں نے احتجاج کا حصہ قرار دیا۔

اس کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے اور دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر حملوں کے الزامات عائد کیے۔ بجرنگ دل کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان پر چھتوں سے پتھراؤ کیا گیا، جبکہ مسلم برادری کے افراد نے الزام لگایا کہ دائیں بازو کے کارکنوں نے خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا۔

میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایک خاتون نے پارک میں اپنے دو بکرے باندھے تھے۔ جب وہ انہیں واپس لینے پہنچی تو وہاں موجود بعض افراد نے ان کے ساتھ بدتمیزی اور ہراسانی کی۔ مسلم فریق کا کہنا ہے کہ جب دیگر خواتین نے اس پر اعتراض کیا تو انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس میں بچے بھی زخمی ہوئے۔

صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں بی جے پی سے وابستہ کارکن وپن راجپوت کو مبینہ طور پر مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز نعرے لگاتے اور دھمکیاں دیتے ہوئے دیکھا گیا۔ ایک ویڈیو میں وہ ہاتھ میں درانتی لیے یہ کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ ’’گردن کاٹ دینی چاہیے‘‘۔

ویڈیوز میں گھروں پر پتھراؤ اور علاقے میں افراتفری کے مناظر بھی دیکھے گئے۔ ایک کلپ میں ایک پولیس اہلکار کو بھی ہجوم سے بچنے کے لیے پناہ لیتے ہوئے دیکھا گیا۔

دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ علاقے میں اس وقت حالات پرامن ہیں اور صورتحال قابو میں ہے، تاہم واقعے کی مختلف پہلوؤں سے جانچ کی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button