بین ریاستی خبریںجرائم و حادثاتسرورق

جے پور میں ہولناک واردات، سرکاری ملازمت اور جائیداد کے لالچ میں بیٹی نے ماں کا قتل کروا دیا

والد کی وفات پر ملنے والی سرکاری ملازمت اور جائیداد کی خاطر بیٹی نے ماں کے قتل کی 7 لاکھ روپے میں دی سپاری

جے پور/راجستھان :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)  راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں ایک دل دہلا دینے والا قتل کا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں 45 سالہ نیرج شرما کو مبینہ طور پر ان کی 23 سالہ بیٹی آیوشی نے والد کی وفات کے بعد ملنے والی سرکاری ملازمت (کمپیشنٹ اپائنٹمنٹ) اور جائیداد حاصل کرنے کی خاطر قتل کروا دیا۔ پولیس کے مطابق اس قتل کے لیے سات لاکھ روپے کی سپاری دی گئی تھی، جبکہ واردات کو ہٹ اینڈ رن حادثہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی۔

یہ واقعہ 3 جولائی کو جے پور کے پرتاپ نگر تھانہ علاقے میں پیش آیا، جہاں نیرج شرما کو ایک سفید اسکارپیو گاڑی نے کچل دیا۔ ابتدائی طور پر پولیس نے اسے ہٹ اینڈ رن حادثہ قرار دیا، تاہم مقتولہ کے بھائی راکیش کمار شرما کی شکایت کے بعد تحقیقات کا رخ بدل گیا۔

راکیش کمار شرما نے پولیس کو بتایا کہ ان کی بہن کافی عرصے سے ذہنی دباؤ اور ہراسانی کا شکار تھیں۔ ان کے مطابق نیرج شرما نے انہیں بتایا تھا کہ بیٹی آیوشی، اس کے سسرال کے بعض افراد اور دیگر رشتہ دار جائیداد کے معاملے پر انہیں مسلسل ہراساں کر رہے تھے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دے رہے تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 3 جولائی کی شام تقریباً ساڑھے چھ بجے آیوشی نے انہیں فون کر کے اطلاع دی کہ ان کی والدہ کا حادثہ ہوگیا ہے اور وہ انتقال کر گئی ہیں، جس کے فوراً بعد اس نے فون بند کر دیا۔ اسی رویے نے ان کے شکوک میں اضافہ کیا اور اگلے ہی روز انہوں نے پولیس میں قتل کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے شکایت درج کرا دی۔

پولیس نے جائے وقوعہ کا تفصیلی معائنہ کیا اور اطراف میں نصب 100 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز کا جائزہ لیا۔ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ واردات میں استعمال ہونے والی سفید اسکارپیو اس علاقے میں پہلے بھی کئی مرتبہ دیکھی گئی تھی۔ بعد ازاں گاڑی چوپاٹی کے قریب لاوارث حالت میں برآمد ہوئی، جس پر تصادم کے نشانات موجود تھے۔

گاڑی کے مالک اور اس میں سوار افراد کی شناخت کے بعد پولیس نے مختلف مقامات پر کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا۔ پوچھ گچھ کے دوران انکشاف ہوا کہ نیرج شرما کے قتل کے لیے سات لاکھ روپے کی سپاری دی گئی تھی۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے یہ بھی بتایا کہ اس سے قبل نیرج شرما کو ایک تھار گاڑی سے کچل کر قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، تاہم وہ ناکام رہا، جس کے بعد اسکارپیو کے ذریعے واردات انجام دی گئی۔

پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران آیوشی نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے والد کی وفات کے بعد ملنے والی سرکاری ملازمت خود حاصل کرنا چاہتی تھی، لیکن اس کی والدہ نے وہ ملازمت قبول کر لی تھی۔ اسی رنجش اور جائیداد حاصل کرنے کی خواہش کے باعث اس نے اپنے چچا موہن شرما، کزن بلرام عرف روی اور دیگر افراد کے ساتھ مل کر اپنی والدہ کو راستے سے ہٹانے کی منصوبہ بندی کی۔

پولیس نے اس کیس میں آیوشی، موہن شرما، موہت شرما، آکاش شرما، اروند شرما، ہیمنت شرما اور روہت جاٹاو کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ مرکزی ملزم بلرام عرف روی تاحال مفرور ہے اور اس کی تلاش جاری ہے۔ تمام ملزمان کا تعلق راجستھان کے ضلع بھرت پور سے بتایا جاتا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے اور اس بات کی بھی جانچ کی جا رہی ہے کہ آیا اس سازش میں مزید افراد بھی شامل تھے یا نہیں۔ واقعے نے جے پور سمیت پورے راجستھان میں سنسنی پھیلا دی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button