اسلام قبول کرنے والوں کے ریزرویشن کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا، تمل ناڈو حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کر دیا
ریاستی حکومت کا مؤقف ہے کہ مذہب تبدیل کرنے سے سماجی تحفظ کے حقوق ختم نہیں ہونے چاہییں۔
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اسلام قبول کرنے والے افراد کو پسماندہ طبقات (Backward Classes) کے ریزرویشن کے فوائد دینے یا نہ دینے کا معاملہ اب سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ تمل ناڈو حکومت نے مدراس ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے جس میں ریاستی حکومت کے 2024 کے حکومتی حکم (جی او) کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا۔
تمل ناڈو حکومت نے 9 مارچ 2024 کو ایک حکومتی حکم جاری کیا تھا، جس کے تحت پسماندہ طبقات (BC)، انتہائی پسماندہ طبقات (MBC)، ڈینوٹیفائیڈ کمیونٹیز (DNC) اور شیڈول کاسٹ (SC) سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد، جو اسلام قبول کریں، انہیں ریاست کی سات منظور شدہ مسلم برادریوں میں سے کسی ایک کا کمیونٹی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
تاہم، مدراس ہائی کورٹ کی جسٹس جی آر سوامیناتھن اور جسٹس پی بی بالاجی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے اس حکومتی حکم کو منسوخ کرتے ہوئے قرار دیا کہ یہ سابق عدالتی فیصلوں کے خلاف ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مذہب تبدیل کرنے کے بعد کسی شخص کی شناخت اس کے نئے مذہب کے مطابق ہوگی اور وہ سابق ذات کی بنیاد پر پسماندہ طبقے کے ریزرویشن کے فوائد کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب سمیر احمد نامی شخص، جس نے 2015 میں ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کیا تھا، نے "مسلم لبائی” برادری کا کمیونٹی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی درخواست دی۔ تحصیلدار کی جانب سے درخواست مسترد کیے جانے کے بعد معاملہ عدالت پہنچا، جہاں سمیر احمد نے 2024 کے حکومتی حکم کا حوالہ دیتے ہوئے ریلیف طلب کیا، لیکن عدالت نے اسی حکم کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا۔
سماعت کے دوران تمل ناڈو حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ حکم تمل ناڈو پسماندہ طبقات کمیشن کی سفارشات کی بنیاد پر جاری کیا گیا تھا اور اس کا مقصد صرف یہ یقینی بنانا تھا کہ مذہب تبدیل کرنے کی وجہ سے پہلے سے حاصل سماجی تحفظ اور ریزرویشن کے حقوق متاثر نہ ہوں۔
مدراس ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ریاستی حکومت نے 6 جولائی کو ایڈووکیٹ بی کروناکرن کے ذریعے سپریم کورٹ میں خصوصی اجازت کی درخواست (SLP) دائر کر دی۔ اب اس اہم آئینی اور قانونی معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے، جس کے ملک بھر میں ریزرویشن اور مذہب کی تبدیلی سے متعلق قوانین پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔



