
ایودھیا مسجد منصوبہ فنڈز کی کمی کا شکار، عظیم الشان کمپلیکس ختم، اب صرف چھوٹی مسجد تعمیر ہوگی
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد دی گئی پانچ ایکڑ اراضی پر اسپتال، لائبریری اور ثقافتی مرکز کا منصوبہ ترک،
ایودھیا:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اتر پردیش حکومت کی جانب سے دی گئی پانچ ایکڑ اراضی پر مجوزہ مسجد منصوبہ شدید مالی مشکلات کے باعث محدود کر دیا گیا ہے۔ انڈو اسلامک کلچرل فاؤنڈیشن (IICF) نے اعلان کیا ہے کہ اب اصل منصوبے کے بجائے صرف ایک چھوٹی مسجد تعمیر کی جائے گی، جبکہ ملٹی اسپیشلٹی اسپتال، لائبریری، کمیونٹی کچن اور انڈو اسلامک ثقافتی و تحقیقی مرکز جیسے منصوبے فی الحال ختم کر دیے گئے ہیں۔
سپریم کورٹ کے ایودھیا تنازعہ سے متعلق فیصلے کے بعد اتر پردیش حکومت نے ایودھیا کے دھنی پور گاؤں میں مسلم کمیونٹی کو پانچ ایکڑ زمین الاٹ کی تھی۔ یہ اراضی لکھنؤ-گورکھپور قومی شاہراہ پر واقع ہے اور رام مندر سے تقریباً 25 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
ابتدائی منصوبے کے تحت اس مقام پر ایک جدید مسجد کے ساتھ 300 بستروں پر مشتمل ملٹی اسپیشلٹی اسپتال، مرکزی لائبریری، کمیونٹی کچن اور انڈو اسلامک ثقافتی و تحقیقی مرکز قائم کیا جانا تھا تاکہ یہ کمپلیکس مذہبی مقام کے ساتھ ساتھ سماجی، تعلیمی اور صحت کی سہولیات کا بھی مرکز بن سکے۔
تاہم انڈو اسلامک کلچرل فاؤنڈیشن کے چیئرمین ظفر احمد فاروقی نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ فنڈز کی شدید قلت اور مسلم کمیونٹی کی محدود مالی معاونت کے باعث اس منصوبے کو نمایاں طور پر کم کرنا پڑا۔
فاؤنڈیشن کے سیکرٹری اطہر حسین کے مطابق نظرثانی شدہ منصوبے میں صرف ایک چھوٹی مسجد تعمیر کی جائے گی۔ اس کے لیے بھی تقریباً 3 سے 5 کروڑ روپے درکار ہیں، جبکہ اب تک صرف ڈیڑھ کروڑ روپے ہی جمع کیے جا سکے ہیں، جو منصوبے کی تکمیل کے لیے ناکافی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق منصوبے میں تاخیر کی ایک وجہ انتظامی اور تکنیکی مسائل بھی رہے۔ فاؤنڈیشن کو ایودھیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ADA) سے نقشے کی منظوری، زمین کے استعمال میں تبدیلی اور ترقیاتی چارجز کی ادائیگی جیسے مراحل میں کافی وقت لگا۔ اگرچہ بعد میں نقشہ منظور ہوگیا، لیکن مالی وسائل کی کمی اور ڈیزائن میں تبدیلی کی ضرورت کے باعث عملی تعمیراتی کام شروع نہیں ہو سکا۔
فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ترجیح صرف مسجد کی تعمیر مکمل کرنا ہے، جبکہ دیگر فلاحی منصوبوں پر مستقبل میں مالی وسائل دستیاب ہونے کی صورت میں غور کیا جائے گا



