18 سال سے کم عمر مسلم لڑکی کی شادی بھی قانوناً جائز نہیں، پرسنل لا POCSO سے بالاتر نہیں، الہ آباد ہائی کورٹ
18 سال سے کم عمر لڑکی کی شادی پر کوئی مذہبی استثنیٰ نہیں، الہ آباد ہائی کورٹ
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) الہ آباد ہائی کورٹ نے کم عمری کی شادی سے متعلق ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ مسلم پرسنل لا سمیت کوئی بھی پرسنل لا بچوں کی شادی کی ممانعت ایکٹ، 2006 اور پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکسوئل آفنسز (POCSO) ایکٹ سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے کہا کہ 18 سال سے کم عمر لڑکی کی شادی قانوناً قابل قبول نہیں اور ایسے معاملات میں POCSO ایکٹ کا اطلاق ہوگا۔
جسٹس جے جے منیر اور جسٹس اچل سچدیوا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ ملک میں شادی کی کم از کم قانونی عمر تمام شہریوں کے لیے یکساں ہے، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔ عدالت کے مطابق شرعی قانون میں بلوغت کو شادی کی بنیاد ماننے کا اصول بچوں کی شادی پر پابندی کے قانون اور POCSO ایکٹ پر فوقیت نہیں رکھتا۔
یہ فیصلہ اس مقدمے میں دیا گیا جس میں فروری کے دوران اتر پردیش کے بلندشہر میں 16 سالہ مسلم لڑکی کی شادی روکنے گئی پولیس ٹیم کو مبینہ طور پر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس واقعے کے بعد 19 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، جنہوں نے ایف آئی آر منسوخ کرنے کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ مسلم پرسنل لا کے مطابق بلوغت کے بعد لڑکی شادی کی اہل ہو جاتی ہے، اس لیے چائلڈ میرج پروہیبیشن ایکٹ ان پر لاگو نہیں ہوتا۔ تاہم عدالت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین صحت عامہ اور قومی پالیسی کا حصہ ہیں، جن سے کسی بھی پرسنل لا کے ذریعے استثنا حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے مزید کہا کہ 18 سال سے کم عمر لڑکی کی شادی کی اجازت دینا POCSO ایکٹ کی روح کے منافی ہے، کیونکہ کم عمر افراد کے ساتھ جنسی تعلقات قانون کے تحت جرم تصور کیے جاتے ہیں، چاہے شادی کا دعویٰ ہی کیوں نہ کیا جائے۔
ہائی کورٹ نے ایف آئی آر منسوخ کرنے سے انکار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ریسکیو ٹیم کو دھمکیاں دی گئیں، ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور سرکاری کارروائی میں رکاوٹ ڈالی گئی، اس لیے تحقیقات جاری رہیں گی



