
اندور میں پوسٹل اسسٹنٹ ارمیلا سینی قتل کیس: 15 سالہ ازدواجی تنازع خونریز انجام تک پہنچ گیا، مفرور شوہر کی تلاش جاری
مفرور شوہر کی تلاش جاری، بچوں کی دل دہلا دینے والی حالت سامنے آگئی
اندور:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مدھیہ پردیش کے اندور ضلع کے منورما گنج علاقے کی ڈاک کنج کالونی میں محکمہ ڈاک کی پوسٹل اسسٹنٹ ارمیلا سینی کے قتل کے معاملے میں مسلسل نئے انکشافات سامنے آرہے ہیں۔ پولیس جہاں مفرور شوہر اکھلیش سینی کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہے، وہیں اس افسوسناک واقعے نے مقتولہ کے دو معصوم بچوں کی زندگی بھی بدل کر رکھ دی ہے۔
اہل خانہ کے مطابق ماں کے قتل کے بعد دونوں بچے شدید ذہنی صدمے میں ہیں۔ بڑی بیٹی اپنی آنکھوں کے سامنے ماں کی خون میں لت پت لاش دیکھنے کا منظر بھلا نہیں پا رہی، جبکہ کم عمر بیٹا بار بار اپنی ماں کو واپس لانے کی ضد کرتا ہے اور اپنے والد کو "راون” کہہ کر اسے سخت سزا دینے کا مطالبہ کرتا ہے۔ بچے کی یہ کیفیت دیکھ کر اہل خانہ بھی آبدیدہ ہو جاتے ہیں۔
پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم اکھلیش سینی واردات سے پہلے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ گھر پہنچا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس نے پہلے ایک بڑا چاقو خریدا، پھر دونوں بچوں کے اسکول جانے کا انتظار کیا۔ جب ارمیلا گھر میں اکیلی تھیں تو اس نے ان پر چاقو سے پے در پے حملے کیے، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ قتل کے بعد ملزم اپنی بیٹی کے اسکول پہنچا، اسے کچھ ضروری سامان اور اے ٹی ایم کارڈ دیا اور بتایا کہ وہ بھوپال جا رہا ہے۔ اس نے دونوں بچوں کو اپنی خالہ کے گھر جانے کی ہدایت بھی دی۔ بعد ازاں جب بیٹی گھر پہنچی تو ٹی وی تیز آواز میں چل رہا تھا جبکہ اس کی والدہ خون میں لت پت پڑی تھیں۔ یہ منظر دیکھ کر اس نے فوراً اہل خانہ کو اطلاع دی۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ واردات سے چند منٹ قبل ارمیلا سینی نے اپنے بھائی منوج ملاکر کو فون کیا تھا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ مزید نہیں رہنا چاہتیں اور کسی وکیل سے بات کرنا چاہتی ہیں۔ اس وقت گھر والوں نے اسے معمول کا خاندانی تنازع سمجھا، لیکن کچھ ہی دیر بعد قتل کی خبر نے سب کو سکتے میں ڈال دیا۔
خاندانی افراد کے مطابق ارمیلا اور اکھلیش سینی کی 2011 میں شادی ہوئی تھی، تاہم شادی کے بعد سے ہی ان کی ازدواجی زندگی تنازعات کا شکار رہی۔ الزام ہے کہ اکھلیش سینی اپنی بیوی کے کردار پر بے بنیاد شک کرتا تھا اور اس کے موبائل فون سمیت روزمرہ کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھتا تھا۔ ارمیلا نے مختلف اوقات میں مہیلا تھانہ، جونی اندور پولیس اسٹیشن اور بھوپال میں شکایات بھی درج کرائی تھیں، لیکن ہر مرتبہ شوہر کے معافی مانگنے اور بچوں کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے سمجھوتہ کر لیا جاتا تھا۔
اہل خانہ کا مزید الزام ہے کہ ملزم اکثر ارمیلا کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتا تھا اور ایک پرانے قتل کے مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہتا تھا کہ قتل کی سزا زیادہ نہیں ہوتی اور وہ جیل سے واپس آ جائے گا۔ خاندان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی بار اسے سمجھانے کی کوشش کی، مگر اس کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ادھر اے سی پی نیتی ڈنڈوتیا نے بتایا کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے چار خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ واردات کے بعد ملزم پیدل جائے وقوعہ سے فرار ہوا اور سی سی ٹی وی کیمروں سے بچنے کی کوشش کی۔ تاہم پولیس کو بس اسٹینڈ اور ریلوے اسٹیشن کے اطراف اس کی نقل و حرکت سے متعلق کچھ اہم سراغ ملے ہیں۔ پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے اور ممکنہ ٹھکانوں پر مسلسل چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
پولیس نے مقتولہ کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرانے کے بعد مزید قانونی کارروائی شروع کر دی ہے، جبکہ ملزم کے اہل خانہ سے بھی پوچھ گچھ جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مفرور ملزم کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔



