
بیوی کی شکل و صورت یا عقل پر ہر تبصرہ 498A کے تحت ظلم نہیں، جھارکھنڈ ہائی کورٹ
جھارکھنڈ ہائی کورٹ کا فیصلہ
رانچی، 20 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے ازدواجی تنازع سے متعلق ایک مقدمے میں واضح کیا ہے کہ بیوی کی ظاہری شکل، مزاج، ذہنی صلاحیت یا بات چیت کے انداز پر شوہر کی جانب سے کیے گئے نامناسب تبصرے ہر صورت بھارتی تعزیرات ہند کی دفعہ 498A کے تحت ظلم نہیں بن جاتے۔ عدالت نے شوہر کے خلاف جاری فوجداری کارروائی ختم کرتے ہوئے کہا کہ محض میاں بیوی کے درمیان اختلافات کی بنیاد پر دفعہ 498A کے تحت جرم ثابت نہیں کیا جا سکتا، جب تک قانون میں بیان کردہ سنگین حالات اور ان کے حق میں قابلِ اعتماد شواہد موجود نہ ہوں۔
جسٹس انیل کمار چودھری کی عدالت نے شوہر کی جانب سے دائر عرضی پر سماعت کرتے ہوئے نچلی عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے سمن اور ڈسچارج درخواست مسترد کیے جانے کے حکم سمیت متعلقہ فوجداری کارروائی منسوخ کردی۔ عدالت نے کہا کہ دستیاب ریکارڈ میں ایسے شواہد نہیں ملے جن سے یہ ثابت ہو کہ شوہر کا مبینہ رویہ بیوی کو خودکشی پر مجبور کرنے یا اس کی زندگی، جسمانی یا ذہنی صحت کے لیے سنگین خطرہ پیدا کرنے والا تھا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق میاں بیوی کی شادی ایک ازدواجی ویب سائٹ کے ذریعے ہوئی تھی۔ شادی کے بعد بیوی نے شکایت میں الزام عائد کیا کہ شوہر اس کی ظاہری شکل وصورت پر طنز کرتا تھا۔ خاتون کے مطابق شوہر اس کے کم بولنے اور خاموش رہنے پر بھی تبصرے کرتا تھا اور اس کی ذہنی صلاحیت اور بات کرنے کے انداز کا مبینہ طور پر مذاق اڑاتا تھا۔
خاتون نے مزید الزام لگایا تھا کہ شوہر نے اسے الگ رہنے کے لیے کہا، جس کے بعد وہ اپنے والدین کے گھر چلی گئی۔ اس کا کہنا تھا کہ بعد میں شوہر نے اسے دوبارہ ازدواجی زندگی میں واپس آنے کی اجازت نہیں دی۔
مقدمے میں بیوی کے زیورات، تحائف اور دیگر ذاتی سامان واپس نہ کرنے کا الزام بھی شامل تھا۔ بیوی کا کہنا تھا کہ شادی کے موقع پر اسے ملنے والی یہ اشیا شوہر کے پاس تھیں۔ اس نے بتایا کہ طلاق کی کارروائی کے دوران یہ سامان واپس کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، لیکن مبینہ طور پر اسے واپس نہیں کیا گیا۔ شکایت کے بعد خاتون اور گواہوں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے۔
ان بیانات کی بنیاد پر رانچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ عدالت نے دفعہ 498A کے تحت مقدمہ بنتا ہوا سمجھا اور شوہر کو سمن جاری کردیا۔ شوہر نے اس کارروائی کے خلاف ڈسچارج کی درخواست دائر کی، تاہم 10 اپریل کو یہ درخواست مسترد کردی گئی۔ اس کے بعد شوہر نے جھارکھنڈ ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ شکایت میں لگائے گئے الزامات دفعہ 498A کے تحت فوجداری ظلم کے قانونی معیار پر پورے نہیں اترتے۔
شوہر کی جانب سے عدالت میں کہا گیا کہ ہر ازدواجی اختلاف، تلخ کلامی یا نامناسب رویے کو فوجداری جرم نہیں قرار دیا جاسکتا۔ اس نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ دفعہ 498A کا اطلاق اسی وقت کیا جاسکتا ہے جب شکایت میں ایسے حالات اور شواہد موجود ہوں جو قانون میں بیان کردہ ظلم کے معیار کو پورا کرتے ہوں۔
ہائی کورٹ نے معاملے کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ دفعہ 498A کے تحت ظلم ثابت کرنے کے لیے صرف عام ازدواجی اختلافات کافی نہیں ہیں۔ عدالت کے مطابق ایسے سنگین حالات کا ہونا ضروری ہے جن سے خاتون کو خودکشی پر مجبور کرنے یا اس کی زندگی، جسم یا جسمانی و ذہنی صحت کو سنگین نقصان پہنچنے کا خطرہ ظاہر ہو۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اس معاملے میں غیر قانونی جائیداد یا جہیز کے مطالبے کا الزام نہیں لگایا گیا تھا اور نہ ہی ایسا کوئی ثبوت سامنے آیا جس سے یہ ظاہر ہو کہ شوہر کے مبینہ رویے سے بیوی کی زندگی یا صحت کو سنگین خطرہ لاحق ہوا۔
ہائی کورٹ نے کہا کہ شکایت میں بیان کیے گئے الزامات کو درست تسلیم کرنے کے باوجود بھی دفعہ 498A کے تحت جرم کے ضروری قانونی عناصر مکمل نہیں ہوتے۔ ایسی صورت میں فوجداری کارروائی کو جاری رکھنا قانون کے عمل کا غلط استعمال ہوگا۔
عدالت نے اسی بنیاد پر شوہر کے خلاف جاری متعلقہ فوجداری کارروائی ختم کردی اور نچلی عدالت کے سمن سمیت متعلقہ احکامات کو بھی منسوخ کردیا۔



