بین ریاستی خبریں

انکیتا بھنڈاری قتل کیس: پلکت آریہ سمیت تینوں مجرموں کی ضمانت خارج

انکیتا بھنڈاری قتل کیس کے مجرموں کی ضمانت خارج

نینی تال، 20 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز)اتراکھنڈ کے معروف انکیتا بھنڈاری قتل کیس میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے پلکت آریہ، سوربھ بھاسکر اور انکت گپتا کو ہائی کورٹ سے بھی راحت نہیں مل سکی۔ نینی تال میں واقع اتراکھنڈ ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے تینوں کی ضمانت درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ عدالت کے فیصلے کے بعد تینوں مجرموں کو فی الحال جیل میں ہی رہنا ہوگا۔

یہ معاملہ جسٹس رویندر میٹھانی اور جسٹس سدھارتھ شاہ کی بنچ کے سامنے زیر سماعت تھا۔ ضمانت کی درخواستوں پر عدالت میں مسلسل دو دن تک تفصیلی بحث ہوئی۔ دفاعی وکلا نے تینوں کی رہائی کے حق میں مختلف قانونی نکات پیش کیے، جبکہ استغاثہ اور متاثرہ خاندان کی جانب سے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے مقدمے کے شواہد اور نچلی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا۔

سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، جسے بعد میں سناتے ہوئے تینوں کی ضمانت درخواستیں خارج کر دی گئیں۔ یہ درخواستیں اس وقت دائر کی گئی تھیں جب کوٹ دوار کی عدالت نے تینوں کو انکیتا بھنڈاری کے قتل اور شواہد مٹانے سے متعلق جرائم میں قصوروار قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

انکیتا بھنڈاری رشی کیش کے قریب واقع وننترا ریزورٹ میں ریسپشنسٹ کے طور پر کام کرتی تھیں۔ ستمبر 2022 میں ان کے اچانک لاپتہ ہونے کے بعد معاملے نے پورے ملک کی توجہ حاصل کی۔ تلاش کے دوران 24 ستمبر 2022 کو ان کی لاش چیلا بیراج کے قریب نہر سے برآمد ہوئی۔ اس کے بعد پولیس نے ریزورٹ کے مالک پلکت آریہ کے علاوہ سوربھ بھاسکر اور انکت گپتا کو گرفتار کیا تھا۔

انکیتا کی موت کے بعد اتراکھنڈ کے مختلف علاقوں میں شدید احتجاج ہوا۔ مظاہرین نے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ معاملے کی تفتیش خصوصی تفتیشی ٹیم (SIT) کے ذریعے کی گئی اور بعد میں کیس میں تینوں ملزمان کے خلاف عدالتی کارروائی آگے بڑھی۔

کوٹ دوار کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ نے 30 مئی 2025 کو پلکت آریہ، سوربھ بھاسکر اور انکت گپتا کو انکیتا بھنڈاری قتل کیس میں قصوروار قرار دیا تھا۔ عدالت نے تینوں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

نچلی عدالت کے فیصلے کے خلاف تینوں نے اتراکھنڈ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی اور اپیل زیر التوا رہنے کے دوران سزا معطل کرنے کے ساتھ ضمانت کی درخواست بھی پیش کی۔ ہائی کورٹ میں اس سے قبل بھی انہیں عبوری راحت نہیں ملی تھی۔ جون 2026 میں عدالت نے عبوری ریلیف دینے سے انکار کرتے ہوئے معاملے کی مزید سماعت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

تازہ سماعت کے بعد اب ہائی کورٹ نے تینوں کی ضمانت درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ اس فیصلے کا مطلب ہے کہ اپیل پر حتمی فیصلہ آنے تک پلکت آریہ، سوربھ بھاسکر اور انکت گپتا جیل میں ہی رہیں گے۔

انکیتا بھنڈاری قتل کیس میں ہائی کورٹ کا تازہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب یہ مقدمہ طویل عرصے سے اتراکھنڈ کے سب سے زیادہ زیر بحث جرائم کے معاملات میں شامل رہا ہے۔ نچلی عدالت کی جانب سے عمر قید کی سزا سنائے جانے کے بعد تینوں مجرموں کی جانب سے سزا اور ضمانت کے معاملے میں ہائی کورٹ سے قانونی راحت حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی، تاہم تازہ حکم میں عدالت نے ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button