
آدھار کارڈ کی زیراکس اب قابل قبول نہیں، QR کوڈ سے ہوگی ڈیجیٹل تصدیق، مرکزی حکومت کا بڑا فیصلہ
آدھار کارڈ کی زیراکس ختم، QR کوڈ سے ڈیجیٹل تصدیق لازمی
حیدرآباد :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) شہریوں کی ذاتی معلومات کے تحفظ، شناختی فراڈ اور ڈیٹا چوری پر قابو پانے کے لیے مرکزی حکومت نے آدھار کارڈ کے استعمال سے متعلق ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ مرکزی وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی (MeitY) اور یونیک آئیڈینٹیفکیشن اتھارٹی آف انڈیا (UIDAI) نے واضح کیا ہے کہ مختلف اداروں میں آدھار کارڈ کی زیراکس (فوٹو کاپی) جمع کرانے کا طریقہ محفوظ نہیں رہا، کیونکہ اس کے ذریعے شناختی معلومات کے غلط استعمال، فرضی قرضوں، مالیاتی فراڈ اور دیگر سائبر جرائم کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
حکومت نے تمام ریاستوں کے چیف سیکریٹریز کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز، اسپتالوں، امتحانی مراکز اور دیگر اداروں میں آدھار کارڈ کی فوٹو کاپی لینے کا سلسلہ مرحلہ وار بند کیا جائے اور اس کی جگہ QR کوڈ پر مبنی ڈیجیٹل ویریفکیشن سسٹم نافذ کیا جائے۔
QR کوڈ سے ہوگی محفوظ تصدیق
نئے نظام کے تحت تصدیق کرنے والا ادارہ ایک QR کوڈ تیار کرے گا، جسے شہری اپنے موبائل فون میں موجود سرکاری تصدیقی ایپ کے ذریعے اسکین کریں گے۔ صارف کی واضح اجازت کے بعد صرف ضروری معلومات، جیسے نام، عمر، تصویر اور موبائل نمبر ہی متعلقہ ادارے کو نظر آئیں گی، جبکہ آدھار نمبر اور دیگر حساس معلومات مکمل طور پر محفوظ رہیں گی۔
UIDAI رجسٹریشن لازمی
حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس ڈیجیٹل ویریفکیشن سسٹم کو استعمال کرنے والے تمام سرکاری اور نجی اداروں کے لیے UIDAI کے ساتھ رجسٹریشن لازمی ہوگا تاکہ تصدیق کا پورا عمل محفوظ، شفاف اور ضابطوں کے مطابق انجام دیا جا سکے۔
کئی سرکاری محکموں میں پہلے ہی کامیاب استعمال
سرکاری حکام کے مطابق دہلی پولیس، ہوم گارڈ، جیل، عدالتوں اور فائر ڈپارٹمنٹ سمیت متعدد سرکاری ادارے پہلے ہی اس QR کوڈ پر مبنی ڈیجیٹل تصدیقی نظام کو کامیابی سے استعمال کر رہے ہیں۔ اس طریقہ کار سے شہریوں کی نجی معلومات محفوظ رہتی ہیں اور شناختی دستاویزات کے غلط استعمال کے امکانات نمایاں طور پر کم ہو جاتے ہیں۔
ڈیجیٹل انڈیا مہم کو ملے گی تقویت
ماہرین کے مطابق صارف کی رضامندی پر مبنی محدود معلومات کے اشتراک کا یہ نظام نہ صرف ڈیٹا پرائیویسی کو مضبوط بنائے گا بلکہ سائبر فراڈ، شناختی چوری اور مالیاتی دھوکہ دہی جیسے جرائم کی روک تھام میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ حکومت اسے ڈیجیٹل انڈیا مہم کے تحت محفوظ اور جدید ڈیجیٹل شناختی نظام کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دے رہی ہے۔



